نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 11

11 نبیوں کا سردار مانے۔ہر ممکن طریق سے اُن کو ذلیل کرے۔اُس وقت ایک شخص جس نے ابو جہل سے کچھ قرضہ وصول کرنا تھا مکہ میں آیا اور اُس نے ابو جہل سے اپنے قرضہ کا مطالبہ کیا۔ابوجہل نے اُس کا قرض ادا کرنے سے انکار کر دیا۔اُس نے مکہ کے بعض لوگوں سے اس امر کی شکایت کی اور بعض نو جوانوں نے شرارت سے اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پتہ بتایا کہ اُن کے پاس جاؤ وہ تمہاری اس بارہ میں مدد کریں گے۔اُن کی غرض یہ تھی کہ یا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس مخالفت کے مدنظر جو مکہ والوں کی طرف سے عموماً اور ابو جہل کی طرف سے خصوصاً ہو رہی تھی اُس کی امداد کرنے سے انکار کر دیں گے اور اس طرح عربوں میں ذلیل ہو جائیں گے اور قسم توڑنے والے کہلائیں گے یا پھر آپ اس کی مدد کے لئے ابو جہل کے پاس جائیں گے اور وہ آپ کو ذلیل کر کے اپنے گھر سے نکال دے گا۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ شخص گیا اور اُس نے ابو جہل کی شکایت کی تو آپ بلا تامل اُٹھ کر اس کے ساتھ چل دیئے اور ابو جہل کے دروازہ پر جا کر دستک دی۔ابو جہل گھر سے باہر نکلا اور دیکھا کہ اُس کا قرض خواہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُس کے دروازہ پر کھڑا ہے۔آپ نے فوراً اُسے توجہ دلائی کہ اس شخص کا تم نے فلاں فلاں حق دینا ہے اس کو ادا کرو اور ابوجہل نے ہلا چون و چرا اُس کا حق اُسے ادا کر دیا۔جب شہر کے رؤساء نے ابو جہل کو ملامت کی کہ تم ہم سے تو یہ کہا کرتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ذلیل کرو اور اس سے کوئی تعلق نہ رکھو لیکن تم نے خود اُس کی بات مانی اور اُس کی عزت قائم کی۔تو ابو جہل نے کہا خدا کی قسم ! اگر تم میری جگہ ہوتے تو تم بھی یہی کرتے۔میں نے دیکھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دائیں اور بائیں مست اونٹ کھڑے ہیں جو میری گردن مروڑ کر مجھے ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی روایت میں کوئی صداقت ہے یا نہیں۔آیا اُسے واقعہ میں اللہ تعالیٰ ے سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحه ۳۰،۲۹ مطبوعه مصر ۱۹۳۶