نبیوں کا سردار ﷺ — Page 159
۱۵۹ نبیوں کا سردار قیدی بنالے۔سوائے اس کے کہ باقاعدہ جنگ میں قیدی پکڑے جائیں۔یعنی یہ رواج جو اُس زمانہ تک بلکہ اس کے بعد بھی صدیوں تک دنیا میں قائم رہا ہے کہ اپنے دشمن کے آدمیوں کو بغیر جنگ کے ہی پکڑ کر قید کر لینا جائز سمجھا جاتا تھا اُسے اسلام پسند نہیں کرتا۔وہی لوگ جنگی قیدی کہلا سکتے ہیں جو میدانِ جنگ میں شامل ہوں اور لڑائی کے بعد قید کئے جائیں۔ا (۹) پھر ان قیدیوں کے متعلق فرماتا ہے فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءَ یعنی جب جنگی قیدی پکڑے جائیں تو یا تو احسان کر کے انہیں چھوڑ دو یا اُن کا بدلہ لے کے اُن کو آزاد کردو۔(۱۰) اگر کوئی قیدی ایسے ہوں جن کا بدلہ دینے والا کوئی نہ ہو یا اُن کے رشتہ دار اُن کے اموال پر قابض ہونے کیلئے یہ چاہتے ہوں کہ وہ قید ہی رہیں تو اچھا ہے تو اُن کے متعلق فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا ۖ وَآتُوهُمْ مِّنْ مَّالِ اللهِ الَّذِي آتَاكُمْ۔یعنی تمہارے جنگی قیدیوں میں سے ایسے لوگ جن کو نہ تم احسان کر کے چھوڑ سکتے ہو اور نہ اُن کی قوم نے اُن کا فدیہ دے کر انہیں آزاد کروایا ہے اگر وہ تم سے یہ مطالبہ کریں کہ ہمیں آزاد کر دیا جائے ہم اپنے پیشہ اور ہنر کے ذریعہ سے روپیہ کما کر اپنے حصہ کا جرمانہ ادا کر دیں گے تو اگر وہ اس قابل ہیں کہ آزادانہ روزی کما سکیں تو تم ضرور انہیں آزاد کر دو بلکہ اُن کی کوشش میں خود بھی حصہ دار بنو اور خدا نے جو کچھ تمہیں دیا ہے اُس میں سے کچھ روپیہ اُن کے آزاد کرنے میں صرف کر دو یعنی اُن کے حصہ کا جو جنگی خرچ بنتا ہے یا اُس میں سے کچھ مالک چھوڑ دے یا دوسرے مسلمان مل کر اُس قیدی کی مالی امداد کریں اور اُسے آزاد کرائیں۔محمد:۵ النور : ۳۴