نبیوں کا سردار ﷺ — Page 144
۱۴۴ نبیوں کا سردار سے ایک فریق ہتھیار ڈال دے تا کہ ملک میں امن قائم ہو جائے۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کی جنگ کے بعد فیصلہ کر لیا کہ اب ہم دونوں فیصلوں میں سے ایک فیصلہ کر کے چھوڑیں گے یا تو ہماری اور کفار کی صلح ہو جائے گی یا ہم میں سے کوئی فریق ہتھیار ڈال دے گا۔یہ تو ظاہر ہے کہ ہتھیار ڈال دینے کی صورت میں کفار ہی ہتھیار ڈال سکتے تھے کیونکہ اسلام کے غلبہ کے متعلق تو خدا تعالیٰ کی طرف سے خبر مل چکی تھی اور مکی زندگی میں ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کے غلبہ کا اعلان کر چکے تھے۔باقی رہی صلح توصلح کے بارے میں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ صلح کی تحریک یا غالب کی طرف سے ہوا کرتی ہے یا مغلوب کی طرف سے۔مغلوب فریق جب صلح کی درخواست کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ ملک کا کچھ حصہ یا اپنی آمدن کا کچھ حصہ مستقل طور پر یا عارضی طور پر غالب فریق کو دیا کرے گا یا بعض اور صورتوں میں اس کی لگائی ہوئی قیود تسلیم کرے گا۔اور غالب فریق کی طرف سے جب صلح کی تجویز پیش ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم تمہیں بالکل کچلنا نہیں چاہتے۔اگر تم بعض صورتوں میں ہماری اطاعت یا ہماری ماتحتی قبول کر لو تو ہم تمہاری آزادانہ حیثیت یا نیم آزادانہ حیثیت کو قائم رہنے دیں گے۔کفار مکہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقابلہ تھا اس میں بار بار کفار کو شکست ہوئی تھی لیکن اس شکست کے محض اتنے معنی تھے کہ اُن کے حملے ناکام رہے تھے۔حقیقی شکست وہ کہلاتی ہے جبکہ دفاع کی طاقت ٹوٹ جائے۔حملہ ناکام ہونے کے معنی حقیقی شکست کے نہیں سمجھے جاتے۔اس کے معنی صرف اتنے ہوتے ہیں کہ گو حملہ آور قوم کا حملہ ناکام رہا مگر پھر دوبارہ حملہ کر کے وہ اپنے مقصد کو پورا کرلے گی۔پس جنگی قانون کے لحاظ سے مکہ والے مغلوب نہیں ہوئے تھے بلکہ اُن کی پوزیشن صرف یہ تھی کہ اب تک اُن کی جارحانہ کارروائیاں اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر سکی تھیں۔اس کے مقابلہ میں مسلمان جنگی لحاظ سے گو اُن کا دفاع نہیں ٹوٹا تھا