نبیوں کا سردار ﷺ — Page 110
11+ نبیوں کا سردار کہ محمد تمہاری جگہ پر ہو اور تم اپنے گھر میں آرام سے بیٹھے ہو؟ زید نے بڑے غصہ سے جواب دیا کہ ابوسفیان ! تم کیا کہتے ہو؟ خدا کی قسم! میرے لئے مرنا اس سے بہتر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے پاؤں کو مدینہ کی گلیوں میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے۔اس فدائیت سے ابوسفیان متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور اُس نے حیرت سے زید کی طرف دیکھا اور فوراً ہی دبی زبان میں کہا کہ خدا گواہ ہے کہ جس طرح محمد کے ساتھ محمد کے ساتھی محبت کرتے ہیں میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی اور شخص کسی سے محبت کرتا ہولے ۷۰ حفاظ قرآن کے قتل کا حادثہ انہی ایام کے قریب قریب مسجد کے کچھ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تا اُن کے ساتھ چند مسلمانوں کو بھیج دیا جائے تا کہ وہ اُن کو اسلام سکھلائیں۔آنحضرت ﷺ نے اُن کا اعتبار نہ کیا۔مگر ابو براء نے جو اُس وقت مدینہ میں تھے کہا کہ میں اس قبیلہ کی طرف سے ضمانتی بنتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین دلایا کہ وہ کوئی شرارت نہیں کریں گے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۷۰ مسلمانوں کو جو حافظ قرآن تھے اس کام کے لئے انتخاب کیا۔جب یہ جماعت بئر معونہ پر پہنچی تو اُن میں سے ایک شخص حرام بن ملحان قبیلہ عامر کے رئیس کے پاس گیا جو ابو براء کا بھتیجا تھا تا کہ اُس کو اسلام کا پیغام دے۔بظاہر قبیلہ والوں نے حرام کا اچھی طرح استقبال کیا مگر جس وقت وہ رئیس کے سامنے تقریر کر رہے تھے تو ایک آدمی چھپ کر پیچھے سے آیا اور اُن پر نیزہ سے حملہ کیا۔حرام و ہیں مارے گئے۔جب نیزہ اُن کے گلے سے پار ہوا تو وہ یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ اللهُ أَكْبَرُ فُرْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ۔یعنی اللہ اکبر کعبہ کے رب کی سیرت ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۱۸۱۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء