نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 5

نبیوں کا سردار دربار میں اپنا وسیلہ بنا لیتے تھے۔اس عقیدہ میں جو نقائص اور بے جوڑ حصے ہیں اُن کے حل کرنے کی طرف اُن کا ذہن کبھی گیا ہی نہیں تھا کیونکہ کوئی موحد معلم ان کو نہیں ملا تھا۔جب شرک کسی قوم میں شروع ہو جاتا ہے تو پھر بڑھتا ہی چلا جاتا ہے ایک سے دو بنتے ہیں اور دو سے تین۔چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت خانہ کعبہ میں ( جواب مسلمانوں کی مقدس مسجد ہے اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیھما السلام کا بنایا ہوا عبادت خانہ ہے ) مؤرخین کے قول کے مطابق تین سو ساٹھ بت تھے گویا قمری مہینوں کے لحاظ سے ہر دن کے لئے ایک علیحدہ بت تھا۔ان بنوں کے علاوہ اردگرد کے علاقوں کے بڑے بڑے قصبات میں اور بڑی بڑی اقوام کے مراکز میں علیحدہ بہت تھے گویا عرب کا چپہ چپہ شرک میں مبتلا ہو رہا تھا۔عرب لوگوں میں زبان کی تہذیب اور اصلاح کا خیال بہت زیادہ تھا انہوں نے اپنی زبان کو زیادہ سے زیادہ علمی بنانے کی کوشش کی مگر اس کے سوا ان کے نزدیک علم کے کوئی معنی نہ تھے۔تاریخ ، جغرافیہ، حساب وغیرہ علوم میں سے کوئی ایک علم بھی وہ نہ جانتے تھے۔ہاں بوجہ صحراء کی رہائش اور اس میں سفر کرنے کے علم ہیئت کے ماہر تھے۔سارے عرب میں ایک مدرسہ بھی نہ تھا۔مکہ مکرمہ میں کہا جاتا ہے کہ صرف چند گنتی کے آدمی پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔اخلاقی لحاظ سے عرب ایک عجیب متضاد قوم تھی۔اُن میں بعض نہایت ہی خطرناک گناہ پائے جاتے تھے اور بعض ایسی نیکیاں بھی پائی جاتی تھیں کہ جو ان کی قوم کے معیار کو بہت بلند کر دیتی تھیں۔شراب نوشی اور قمار بازی عرب شراب کے سخت عادی تھے اور شراب کے نشہ میں بے ہوش ہو جانا یا بکواس کرنے لگتا اُن کے نزدیک عیب نہیں بلکہ خوبی تھا۔ایک شریف آدمی کی شرافت کی علامتوں میں سے یہ بھی تھا کہ وہ اپنے دوستوں اور ہمسائیوں کو خوب شراب پلائے۔امراء کے لئے دن