نبیوں کا سردار ﷺ — Page 4
نبیوں کا سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت عرب کی حالت بت پرستی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس زمانہ میں پیدا ہوئے اُس زمانہ کے حالات کو بھی آپ کے حالات کا ایک حصہ ہی سمجھنا چاہئے کیونکہ اسی پس پردہ کو مدنظر رکھ کر آپ کی زندگی کے حالات کی حقیقت کو انسان اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔آپ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور آپ کی پیدائش شمسی حساب سے اگست ۵۷۰ء میں بنتی ہے۔آپ کی پیدائش پر آپ کا نام محمد رکھا گیا جس کے معنے تعریف کئے گئے کے ہیں۔جب آپ پیدا ہوئے اُس وقت تمام کا تمام عرب سوائے چند مستثنیات کے مشرک تھا۔یہ لوگ اپنے آپ کو ابراہیم کی نسل میں سے قرار دیتے تھے اور یہ بھی مانتے تھے کہ ابراہیم مشرک نہیں تھے لیکن اس کے باوجود وہ شرک کرتے تھے اور دلیل یہ دیتے تھے کہ بعض انسان ترقی کرتے کرتے خدا تعالیٰ کے ایسے قریب ہو گئے ہیں کہ اُن کی شفاعت خدا تعالیٰ کی درگاہ میں ضرور قبول کی جاتی ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کا وجود بہت بلندشان والا ہے اُس تک پہنچنا ہر ایک انسان کا کام نہیں کامل انسان ہی اُس تک پہنچ سکتے ہیں اس لئے عام انسانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی وسیلہ بنا ئیں اور اس وسیلہ کے ذریعے سے خدا تعالیٰ کی رضا مندی اور مدد حاصل کریں۔اس عجیب و غریب عقیدہ کی رو سے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو موحد مانتے ہوئے اپنے لئے شرک کا جواز بھی پیدا کر لیتے تھے۔ابراہیم بڑا پاکباز تھا۔وہ خدا کے پاس براہ راست پہنچ سکتا تھا مگر مکہ کے لوگ اس درجہ کے نہیں تھے اس لئے انہیں بعض بڑی ہستیوں کو وسیلہ بنانے کی ضرورت تھی۔جس غرض کے حصول کے لئے وہ ان ہستیوں کے بھوں کی عبادت کرتے تھے اور اس طرح بخیال خود ان کو خوش کر کے خدا تعالیٰ کے