مواہب الرحمٰن — Page 95
مواهب الرحمن ۹۵ اردو تر جمه فإنه وجد مرتبة النبوة قبل ظهور ہمارے آقا خاتم الانبیاء ﷺ کے ظہور سے پہلے سيدنا خاتم الأنبياء ، فكماله لیس پایا تھا۔لہذا اس کا کمال ہمارے نبی صلی اللہ علیہ سلب من اليهود بعد عيسى نعمة بمستفاد من نبينا صلى الله عليه وسلم سے فیضیاب نہ تھا اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات وسلم وهذا أمر ليس فيه شيء من نہیں اس لئے اُسے اُمت محمدیہ کا فرد قرار دینا لفظ 24 الخفاء۔فجعله فردا من الأمة امت کی حقیقت سے لاعلمی اور حضرت کبریا کی جهل بحقيقة لفظ "الامة"، کتاب کے خلاف ہے۔سواس میں کوئی شک نہیں وخلاف لكتاب حضرة الكبرياء کہ اسے امت میں داخل کرنا کذب صریح اور فلا شك أن إدخاله في الأمة ترک حیا ہے۔اس لئے اگر تو متقیوں میں سے كذب صريح وترك الحياء ہے تو اس بارے میں غور و فکر کر۔حاصل کلام یہ کہ ففكر في ذالك إن كنت من اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی کے بعد یہودیوں سے أهل الاتقاء۔والحاصل أن الله نبوت کی نعمت سلب کر لی۔اور یہ نعمت ان کی طرف سید الانام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں النبوة ، فلا ترجع إليهم أبدا في کبھی واپس نہیں آئے گی۔نیز جو پہلے دلالت من غير أب وبلا ولد دليل على ما قاطعہ سے گزر چکا ہے اس پر حضرت عیسی کا مربالدلالة القاطعة، وإشارة إلى بن باپ اور لا ولد ہونا محکم دلیل ہے۔اور یہ اس قطع تلك السلسلة الإسرائيلية۔اسرائيلی سلسلہ کے منقطع ہونے کی طرف اشارہ فلا يجيء نبي من اليهود لا قدیم ہے۔پس نبوت محمدیہ کے دور میں یہودیوں میں ولا حديث في دور النبوة المحمدية ، سے کوئی نبی نہیں آئے گا۔نہ پرانا نہ نیا۔یہ بزرگی وعد من الله ذى العزة۔وكما والے اللہ کا وعدہ ہے اور جس طرح اُس نے اُن نزع النبوة منهم كذالك نزع سے نبوت چھین لی تھی اسی طرح ان سے بادشاہت منهم ملكهم وغادرهم الله بھی چھین لی اور اللہ نے انہیں بدبودار مُردار کی كالجيفة۔وكان تولد يحيى من طرح چھوڑ دیا۔حضرت یحیی کی قوائے بشریہ کے زمان خير البرية وكون عيسى