مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 94

مواهب الرحمن ۹۴ اردو تر جمه قومی مُد رفعتُ إلى السماء آسمان پر اٹھایا گیا اُس وقت سے مجھے یہ معلوم نہیں الثانية۔فانظروا أتى كذب أكبر کہ میری قوم پر کیا گزری۔پس غور کرو کہ اس من هذا الكذب الذي يرتكبه جھوٹ سے بڑھ کر اور کیا جھوٹ ہوگا جس کا المسيح أمام عين الله في يوم ارتكاب مسیح بروز حساب اور بوقت سوال اللہ کے الحساب والمسألة، ولا يخاف سامنے کرے گا۔اور بارگاہ رب العزت سے نہیں حضرة ربّ العزة۔فالحاصل أنه ڈرے گا۔حاصل کلام یہ کہ جب قرآن نے مسیح لما منع القرآن نزول المسیح کے آسمان سے نزول کو قطعیۃ الدلالت آیت میں من السماء في الآية التي هي كلیه روک دیا تو اس سے بلا شک و شبہ یہ بات قطعية الدلالة، تعيَّنَ إِذًا من غیر متعین ہو گئی کہ مسیح موعود یہود میں سے نہیں شك أن المسيح الموعود لیس ہوگا بلکہ اسی امت ( محمد یہ ) میں سے ہوگا۔اور یہ من اليهود بل من هذه الأمة کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ان یہود پر ذلت کی مار ماری وكيف وإن اليهود ضربت عليهم گئی۔پس ابدی عقوبت کے بعد وہ کسی عزت کے الذلة ؟ فهم لا يستحقون العزة بعد مستحق نہیں رہے۔اس لئے یا درکھو کہ رجوع عیسی العقوبة الأبدية۔فاعلموا أن خيال كا تصوّر محض جھاگ کے مشابہ ہے اور قرآن کا رجوع عيسى يشابه زبدا، وأن روکا ہوا کبھی واپس نہیں آسکتا۔پھر جب اس کا محبوس القرآن لا يرجع أبدا۔ثم واپس آنا فرض کر لیا گیا تو اس سے ہمارے آقا إذا فُرض رجوعه فيستلزم هذا خير الانام (ﷺ) کی (نعوذ باللہ ) کذب بیانی كذب سيدنا خير البرية، فإنه قال لازم آتی ہے۔کیونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ آنے والا إن المسيح الآتى يأتى من الأمة۔مسیح امت میں سے آئے گا اور امت میں صرف وليس من الأمة إلَّا الذى وجد وہی شامل ہے جس نے حضرت محمد مصطفی صلى الله كماله من فيوض المصطفى، ولا (ﷺ) کے فیوض سے اپنا کمال پایا اور یہ شرط يوجد هذا الشرط في عیسی عیسی میں نہیں پائی جاتی۔کیونکہ اس نے مرتبہ نبوت