مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 36

مواهب الرحمن ۳۶ اردو تر جمه ثم لا ينظرون أهذه عَلَمُ الدّجاجلة؟ ان میں سے بیشتر تو کھل کر ظاہر ہو چکی ہیں لیکن پھر فأروني كمثلها إن كنتم تصدقون أم بھی وہ نہیں دیکھتے۔کیا دجالوں کی یہی علامت كنتم أشقياء في كتاب الله فما جعل ہے؟ اگر تم سچ کہہ رہے ہو تو اس جیسی کوئی مثال مجھے دکھاؤ یا یہ کہ تم کتاب الہی میں بد بخت ہو۔اور اللہ نے تمہارے نصیب میں صرف دجال ہی ۲۹ الله نصيبكم إِلَّا الدجالين۔ما لكـم كيف تـحـكـمـون؟ بل ظهر رکھے ہیں تمہیں کیا ہو گیا ہے تم کیسے فیصلے کر ر۔وعـد الـلـه في وقته صدقا وحقا، رہے ہو؟ بلکہ اللہ کا وعدہ عین اپنے وقت پر پوری فبوسًا للذين لا يقبلون قوم لد صداقت اور حقانیت سے ظاہر ہو گیا ہے۔پس يؤثرون الظلمات على النور و هم بدبختی ہے ان لوگوں کے لئے جو قبول نہیں کرتے۔يعلمون، وكأين من آية رأوها یہ بہت جھگڑالو لوگ ہیں جانتے بوجھتے تاریکیوں کو بأعينهم ثم ينكرون ألم يروا ان نور پر ترجیح دیتے ہیں۔اور کتنے ہی نشانات ہیں جو۔الارض ملئت ظلما و زورًا۔وأن انہوں نے بچشم خود دیکھے پھر بھی وہ انکار کرتے الــعـــدا من كل حدب ہیں۔کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ زمین ظلم اور جھوٹ سے بھر گئی ہے اور دشمن ہر بلندی کو پھلانگتے ينسلون؟ وقال بعضهم : ما رأينا چلے آرہے ہیں۔اور ان میں سے بعض نے کہا کہ من آية۔يا سبحان الله إما هذه ہم نے تو کوئی نشان دیکھا ہی نہیں۔سبحان اللہ ! یہ الأكاذيب وترك خوف کیا جھوٹ کا پلندہ ہے۔اور حسیب خدا سے کیسی الحسيب؟ وإن فصل القضايا بے خوفی ہے۔تمام قضیے یا تو شواہد سے طے پاتے يكون بالشواهد أو الألايا، فأراهم ہیں یا قسموں سے۔پس میرے رب نے زمین ربی شواهد من الأرض سے بھی اور آسمانوں سے بھی انہیں شواہد دکھائے۔والسماوات، فعموا وصموا وما مگروہ اندھے اور بہرے ہو گئے اور جزا سزا کے دن خافوا يوم المكافاة۔ثم أُقسم بالله سے نہ ڈرے۔پھر میں اللہ کی قسم کھا تا ہوں جس نے