مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 15

مواهب الرحمن ۱۵ اردو تر جمه ويُبدى لهم ما لا يتصور ولا پیاروں اور متقیوں کے لئے خارق عادت ظاہر يُرى۔ولولا ذالك لشقی کرتا ہے۔اور ان کے لئے وہ کچھ ظاہر کرتا ہے طلابه، ونُكِّرَ جنابه، ومات جس کا تصور اور مشاہدہ نہیں کیا جاسکتا اور اگر ایسانہ عُشّاقه في الحجب والغشاء ہوتا تو اُس کے طالب نامراد ہو جاتے اور ذاتِ والعمى۔ووالله لولا خرق باری کی شناخت نہ ہوتی اور اس کے عشاق :۔6 العادت لضاعت ثمرات حجاب، پردے اور اندھے پن میں مر جاتے۔اور بخدا اگر خوارق نہ ہوتے تو عبادتوں کے ثمرات العبادات، وماتت عباده تحت ضائع ہو جاتے۔اور اللہ کے بندے دشمنوں کے مكائد أهل المعادات، ولصار المنقطعون خاسرين في الدنيا والأخرى، ولضاعت نفوسهم مِنَ الهجران، وماتوا وما لهم عينان، وما كان أحد كمثلهم أشقى۔۔مکارانہ منصوبوں کے نیچے مرجاتے۔اور زُهّاد دنیا اور آخرت میں خائب و خاسر ہو جاتے۔اور فراق کے مارے ان کی جانیں ضائع ہو جاتیں اور وہ چشم بینا کے بغیر ہی مر جاتے اور ان جیسا کوئی بھی بد بخت نہ ہوتا اور یقینا اللہ ہی ان کی جنت اور سپر وإن الله جنتهم وجُنّتهم، وإنهم و ہے اور انہوں نے اُسی کے لئے اپنا عیش و آرام ترکواله عيشهم وراحتهم، ترک کر دیا ہے۔پس کیونکر وہ یار جانی ایسے شخص کو فكيف يترك الحِبِّ مَن كان له؟ جو ہمہ تن اس کا ہو جائے چھوڑ دے بلکہ جو اُس کی بل يسعى فضله إلى من مشى طرف چل کر آتا ہے اُس کا فضل اُس کی طرف والخلق عُمى كلّهم لا يعرفون بھاگا چلا آتا ہے۔اور مخلوق تو سب کی سب اندھی أولياءه، فيعرفهم بآيات يجليها ہے وہ اس کے اولیاء کو نہیں پہچانتی۔مگر وہ خدا خود کالضّحى۔ولولاترك انہیں اپنے روز روشن کی طرح تاباں نشانات کے العادات۔فما معنى الآيات؟ ألا ساتھ ان کی پہچان کرواتا ہے۔اگر ترک عادات تُفكّرون يا ولد المسلمين نہ ہوتو نشانات چہ معنی دارد؟ اے فرزندان اسلام