مواہب الرحمٰن — Page 114
مواهب الرحمن ۱۱۴ اردو تر جمه - ولدوا فطرةً على هذه الجهلات ان جہالتوں میں پیدا کئے گئے ہیں۔کیا وہ میری أيحسبونني أنى أُحِبُّ الشهرة نسبت یہ خیال کرتے ہیں کہ میں شہرت پسند فيحسدون ووالله إني لا أحب إلا ہوں تو (اس بناء پر ) وہ مجھ سے حسد رکھتے ہیں۔مغارة الخلوة لو كانوا يعلمون۔بخدا مجھے تو صرف گوشہ ء تنہائی پسند ہے، کاش وہ وما كنتُ أن أخرج إلى الناس من جانتے۔میں ایسا نہیں تھا کہ اپنے کنج تنہائی سے زاويتي، فأخرجنى ربّى و أنا كارة نكل كر لوگوں کے پاس جاتا ،مگر میرے رب نے من قريحتي۔وكنت أتنفر كل میری ناگواری طبع کے باوجود مجھے باہر نکالا۔نفرة من الشهرة ، وما كان شيء حالانکہ میں شہرت سے کلیتاً متنفر تھا اور تنہائی ألذ إلى من الخلوة، فأتى ذنب سے بڑھ کر مجھے کوئی ہے لذیذ وعزیز نہ تھی۔پس اگر على إن أخرجني ربی من حجرتی میرے رب نے مصلحت عامہ کی خاطر مجھے میرے للمصلحة العامة وما كنت من حجرے سے نکالا ہے تو اس میں مجھ پر کیا دوش ہے؟ جرثومة العلماء الأجلة، ولا من میں نہ تو اَجَل عُلماء کی نسل میں سے تھا اور نہ بنی قبيلة من بنى الفاطمة، لأظَنَّ أنّى فاطمہ کے قبیلے سے تاخیال کیا جاتا کہ میں اس حیلے أطلب منصب بعض آبائی بھذہ بہانے سے اپنے بعض آباؤ اجداد کا منصب حاصل الحيلة۔وما كان هذا إلا فعل من کرنے کا طالب ہوں۔یہ تو بس سراسر ایک آسمانی فعل السماء ، وما كنت أنتظره تھا۔نفسانی خواہشات کے پجاریوں کی طرح میں (۹۲) لنفسي كأهل الأهواء ثم بعد اپنے لئے اس منصب کا چشم براہ نہ تھا۔پھر اس کے ذالك سعى العلماء كل السعى بعد علماء نے مقدور بھر کوشش کی کہ وہ ہماری عمارت ليهدوا بـنـيـاننا، ويُفرّقوا أعواننا، گرا دیں۔اور ہمارے مددگاروں کو منتشر کر دیں۔فكان آخر أمرهم أنهم أصبحوا ليکن انجامکار وہ ناکام و نامراد ہو گئے اور اللہ نے خاسرين۔وجمع الله شملنا وبايعنا ہمارے شیرازے کو مجتمع کر دیا اور حق کی جستجو کرنے أفواج من الطالبين۔وكان هذا أمرا والی جماعتوں نے ہماری بیعت کر لی۔اور یہ بیس سال