مواہب الرحمٰن — Page 113
مواهب الرحمن ۱۱۳ اردو ترجمه الأعمال، وثمرة ما تقدم من سيئات کے لحاظ سے ان کی گزشتہ بدیوں کا نتیجہ ہے۔اور یہ الأقوال والأفعال۔وإلى الآن لم طوفان ابھی تک تھما نہیں۔صبر جمیل اور تسلی و ينقطع هذا الطوفان، ولم يبق اطمینان کی کوئی صورت باقی نہیں رہی۔اور یہ | جميل الصبر والسلوان وكيف (طاعون کا طوفان) تھمتا بھی کیسے جبکہ ان کے ولم ينقطع مادته التي في الصدور، سینوں میں بدیوں کا فاسد مادہ ختم نہیں ہوا۔بلکہ یہ بل هي في زيادة و بدور۔قد سمعوا تیزی سے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔خدائے ذوالجلال ما جاء من الله ذی الجلال، ثم لا کا فرمودہ انہوں نے سنا تو ضرور لیکن پھر بھی بوجہ يتمالكـون أنفسهم من الاشتعال، اشتعال انہیں اپنے نفسوں پر قابو نہیں ، انہوں نے وقطعوا العُلق وأقسموا جهد تعلق منقطع کر لیا، اور پکی قسمیں کھائیں کہ وہ حق أيمانهم أنهم لا يسمعون الحق ولا پر کان نہیں دھریں گے، اور گمراہی ترک نہیں کریں يتركون الضلال۔وكانوا يقولون گے۔حالانکہ اس سے پہلے وہ یہ کہا کرتے تھے کہ من قبل إن قـول الـحـكم مقدم حکم کا فرمان اَحَادِيثِ ظَنِّیہ پر مقدم ہے۔على الأحاديث الظنية، والآن لیکن اب وہ اپنی ظنی باتوں کو نصوص قرآنیہ اور 91 يقدمون ظنونهم على النصوص دلائل قطعیہ پر مقدم رکھتے ہیں۔الوہیت (مسیح القرآنية والدلائل القطعية۔وإنّ جبروت الألوهية أدهشت الدنيا ناصری) کے جابرانہ عقیدے نے ساری دنیا کو كلها ولكن ما قرب خوق قلوب مرعوب کیا ہوا ہے لیکن خوف اس گروہ کے قلوب هذه الطائفة، كأنهم براء فى کے قریب تک نہیں پھٹکا گویا کہ وہ نوشتہ تقدیر میں صحف المشيّة۔وقد رأوا نقل مبرا ہیں۔انہوں نے اپنے بعض سرکردہ لوگوں کو بعض الصدور منهم إلى القبور، اپنی آنکھوں سے قبروں کی طرف منتقل ہوتے دیکھا ثم لا يمتنعون من السب والشتم پھر بھی وہ سب وشتم اور کذب بیانی اور جھوٹ سے والكذب والزور، كأنهم أرضعوا باز نہیں آتے۔گویا کہ انہیں اپنی ماؤں کی چھاتیوں بها من ثدى الأمهات أو سے کذب بیانی کا دودھ پلایا گیا ہے۔یا فطرتا وہ