مواہب الرحمٰن — Page 102
مواهب الرحمن ۱۰۲ اردو ترجمه رفعه إلى السماء لم يثمر إلا ثمرة رَفَع إِلَى السَّمَاء کے اعتقاد نے بُرا نتیجہ ہی پیدا ردية، ولم ينبت إلا شجرة خبيثة كيا اور صرف شجرہ خبیثہ ہی پیدا کیا۔سواگر یہ عقیدہ فلو كان هذا الأمر حقا وكان هذا درست ہوتا اور در حقیقت یہ فعل اللہ کی جانب سے الـفـعـل مـن عند الله حقیقة ہوتا تو اس کا نتیجہ ضرور اچھا مرتب ہوتا۔پس اس لترتب عليه نتيجة حسنة فلا میں کوئی شک نہیں کہ یہ اعتقاد شیطانی وسوسہ اور شك أن هذا الاعتقاد وسوسة ابلیسی جال ہے۔اسی وجہ سے اس سے توحید پر شيطانية، وشبكة إبليسية مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اور خدائے واحد و ولذالك صُبّتُ منه مصائب على التوحيد، ووضع التثليث یکتا کے نام کی جگہ تثلیث نے لے لی۔اور اس في موضع اسم الله الوحيد الفرید سے اکثر لوگوں کے لئے جہنم کے دروازے کھل وفتح أبواب جهنم علی کثیر من گئے اور ہزاروں لوگ شرک کے گرداب اور شیطان الناس، وألقى منه ألوف من الورای کے پنجے میں گرفتار ہو گئے اور اگر مسلمان اس فاسد في ورطة الشرك و براثن عقيده پر اعتقاد نہ رکھتے تو وہ ارتداد سے بچے رہتے الخنّاس۔ولو كان المسلمون لم اور عیسائیت کے تیروں سے محفوظ رہتے۔لیکن اب يعتقدوا بهذه العقيدة الفاسدة تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ عیسائی پادریوں کے لأمنوا من الارتداد ولنجوا من ہاتھوں میں قیدیوں کی طرح ہیں۔یہ (مسلمان) اپنی زبانوں سے تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے نبی محمد صلى الله نــاهـم كالأسارى في يد قسوس | مصطفی ﷺ تمام نبیوں کے سردار ہیں۔لیکن جو النصارى يقولون بألسنهم : إن السهام النصرانية۔ولكن الآن قد چیز ظاہر و باہر نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ اُن کے اس سید الرسل نبينا المصطفى قول اور اُن کے عمل میں کوئی مطابقت نہیں ہے۔ولكن لم يقترن هذا القول بالعمل كما لا يخفى۔يا سماء ! اے آسمان! تو ان کی اس جسارت پر پھٹ کیوں لم لا تنشق لجسارتهم؟ ویا نہیں جاتا۔اور اے زمین! ان کے اس جرم پر تجھ أرض الم لا تتزلزل لجريمتهم ؟ | پر کیوں لرزہ طاری نہیں ہوتا۔ان مسلمانوں نے