مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 84
84 پیدا کئے۔لیکن ہمیں یہ نہ بھولنا چاہیے کہ قدیم دنیا کا یہ طریق کار نظری خیالات کے عمل کا نتیجہ تھا۔یہ طریقہ مبہم مذہبی اعتقادات اور روایات کو منظم شکل دینے سے آگے نہیں جاسکتا اور اس سے ہم زندگی کے ٹھوس احوال پر قابو نہیں پاسکتے۔معاملہ کو اس پہلو سے دیکھتے ہوئے پیغمبر اسلام قدیم اور جدید دنیا کے درمیان رے معلوم ہوتے ہیں۔اپنے پیغام کے ماخذ کے لحاظ سے وہ قدیم دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔لیکن اس پیغام کی روح (Spirit) انہیں جدید دنیا سے وابستہ کرتی ہے۔اُن کی ذات میں زندگی نے اپنی جدید رہنمائی کے لئے مناسب اور پہلے سے مختلف ذرائع علم دریافت کئے ہیں۔اسلام کی ابتدا قیاسی عقل کی پیدائش ہے۔میں امید کرتا ہوں اس امر کی نسبت ( اس لیکچر) میں آپ کو کافی دلائل سے قائل کر سکوں گا۔اسلام کے ذریعہ نبوت اپنے خاتمے کی ضرورت کے احساس کے ساتھ اپنے کمال تک پہنچتی ہے۔اس سے مراد اس امر کا شدید احساس ہے کہ زندگی ہمیشہ کے لئے خارجی سہارے کی محتاج نہیں رہ سکتی اور یہ کہ خود شعوری کی تعمیل کے لئے ضروری ہے کہ بالاخر انسان محض اپنی استعداد پر انحصار کرنے لگے۔اسلام میں مذہبی پیشوائیت اور خاندانی بادشاہت کا خاتمہ اور قرآن میں بار بار عقل اور تجربہ سے خطاب اور اسی طرح اس کتاب کا نیچر اور تاریخ پر بطور ذرائع علم زور دینا۔یہ سب امور اُسی ایک تصور خاتمیت کے مختلف پہلو ہیں۔“11 ملک محمد جعفر خاں صاحب کے نزدیک اس پورے فلسفیانہ تخیل کا خلاصہ یہ ہے۔اول۔”سلطانی جمہور اور ختم نبوت ایک ہی ارتقائی عمل کے دو پہلو ہیں۔“12 دوم۔ختم نبوت کی تکمیل پر انسان مکمل طور پر آزاد ہے جس طرح راستے پر چلنا اس کے 13" اختیار میں ہے اسی طرح Sign Post قائم کرنا بھی اس کا اپنا کام ہے۔جو خیال اس صور تحال کے خلاف ہے۔وہ لازماً اس حد تک نظر یہ ختم نبوت کے خلاف ہے۔سوم۔”دنیا عقلیت کے دور میں داخل ہو چکی ہے اور ایسا کرنے میں انسان نے خدا سے کوئی بغاوت نہیں کی بلکہ وہ عین اس راہ پر چل رہا ہے جو خدا نے شروع سے ہی مقدر کر رکھا تھا۔“14 اقبال کی اس فلسفیانہ تحریر نے یہ عقدہ حل کر دیا کہ کارل مارکس کے نظریہ سلطانی جمہوریہ اور اس کے Sign Post پر اُن کا ایمان سیاسی یا معاشی زاویہ نگاہ سے نہیں تھا بلکہ آیت خاتم النبیین نے