مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 83 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 83

83 اقبال کے پرستار ملک محمد جعفر خاں (سابق وزیر مملکت برائے مذہبی امور پاکستان 1974ء) نے اس فلسفیانہ تحریر کا حسب ذیل الفاظ میں ترجمہ کیا ہے۔” نبوت کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ ایک طرح کا تصوفانہ شعور ہے جس میں وجدانی تجربہ اپنی حدود سے باہر جانا چاہتا ہے اور اجتماعی زندگی کی قوتوں کی از سر نو تشکیل یا اُن کی جدید ر ہنمائی کے مواقع کا متلاشی ہوتا ہے۔نبی کی شخصیت میں زندگی کا مرکز اپنی ہی ذات کی لا محدود گہرائیوں میں ڈوب کر تازہ قوت حاصل کر کے اُبھرتا ہے تاکہ قدیم نظام کو ختم کر کے زندگی کی نئی راہیں آشکار کرے۔کسی ذات کا اپنے اصل کے ساتھ اس طرح کا الحاق انسان کے ساتھ مختص نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جس طرح قرآن نے لفظ وحی استعمال کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن اس کو زندگی کا ایک عمومی خاصہ قرار دیتا ہے۔اگر چہ اس کی نوعیت اور خاصیت زندگی کے مختلف ارتقائی مدارج پر مختلف ہوتی ہے۔ایک پودے کا آزادی کے ساتھ فضا میں پھیلنا، یا ایک حیوان کا اپنے نئے ماحول کی مناسبت کے لئے ایک نیا عضو بدن پیدا کرنا یا ایک انسانی وجود کا زندگی کی اندرونی گہرائیوں سے روشنی حاصل کرنا۔۔۔۔یہ سب وحی (Inspiration) کی مثالیں ہیں، جن کا اپنی خاصیت باہم اختلاف وحی پانے والے وجود یا اس کی نوع کی ضروریات کے اختلافات کی وجہ سے ہے۔نوع انسانی کی کم سنی کے دور میں ذہنی قوت وہ شے پیدا کرتی ہے، جسے میں پیغمبرانہ شعور کا نام دیتا ہوں۔یہ دراصل ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے فیصلہ ، رڈ واختیار اور راہ عمل کے چند اصول مقرر کر لئے جاتے ہیں۔اور اس طرح انفرادی فکر و اختیار میں کمی عمل میں لائی جاتی ہے۔لیکن عقل اور جو ہر استنباط کی پیدائش کے ساتھ زندگی اپنے مفاد کے لئے اُن غیر عقلی ذرائع شعور کی نمود اور افزائش کو بند کر دیتی ہے جن میں کہ اس کی ذہنی قوت انسانی ارتقا کے نسبتاً ابتدائی دور میں جاری رہی تھی۔ابتداً انسان جذبات اور فطری حسیات کے تابع تھا۔قیاس کرنے والی عقل جو انسان کو اپنے ماحول پر قادر بناتی ہے، ایک حاصل کی ہوئی استعداد ہے۔اس استعداد کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی اس کی مزید تقویت کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ علم کے دیگر ذرائع کی منا ہی کر دی جائے۔اس میں شکست نہیں کہ قدیم دنیا نے انسان کے ابتدائی دور میں جب کہ وہ کم و بیش القاء (Suggestion) کے تابع تھا۔فلسفہ کے بعض اہم سسٹم