مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 80
80 اور فلاسفروں کی نسبت ان کے مرشد مولانا روم کا پُر معرفت ارشاد ہے کہ۔فلسفی کو منکر حنانه است از حواس اولیاء بیگانه است جو فلسفی (آنحضرت کے فراق میں) گریہ وزاری کرنے والے ستون کا منکر ہے، اولیاء کی باطنی جشوں سے بھی بے خبر ہے۔لہذا جسے ولایت کا ادراک نہیں جو نبوت کا پہلا زینہ ہے ، وہ مقام نبوت ہی سے بیگانہ ہے اور ایسے بد نصیب کو شان خاتم النبین کا عرفان کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔مولانا روم نے ختم نبوت کی ایسی ایمان افروز تشریح فرمائی ہے کہ ایک عاشق رسولِ عربی کی روح وجد کر اُٹھتی ہے اور دل کی گہرائیوں سے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے درود جاری ہو جاتا ہے۔فرماتے ہیں۔بہر ایں خاتم شد است که بجود مثل اونے بودو نے خواهند بود چونکه در صنعت برد استاد دست نے تو گوئی ختم صنعت بر تواست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی لئے خاتم بنے کیونکہ سخاوت میں نہ آپ جیسا کوئی ہوا اور نہ کبھی ہو گا۔جب کوئی استاد فن کاریگری میں دوسروں سے سبقت لے جاتا ہے تو کیا تم نہیں کہتے کہ یہ صنعت اس پر ختم ہے۔پھر فرمایا: در در جہاں روح بخشاں حاتمی و کشاد ختمہا تو خاتمی آپ مہروں کے کھولنے میں خاتم ہیں اور روح بخشنے والوں کے جہان میں حاتم ہیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کیا خوب فرماتے ہیں: صد ہزاراں یوسفے بینم دریں چاہ ذقن واں مسیح ناصری شد از دم او بے شمار اب فلسفہ مغرب واشتراکیت کی ٹکسال میں ڈھلی ہوئی جناب اقبال کی خود تراشیدہ تفسیر خاتم النبیین پر نظر ڈالتے ہیں جس کا قرآن وسنت اور بزرگان امت سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں،