مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 79
79 پنڈت نہرو اور اقبال دونوں ہی اپنی روح کے اعتبار سے سوشلسٹ اور پکے دہر یہ ہیں۔پنڈت نہرو نے اپنی دہریت کا اعتراف ”میری کہانی“ میں کیا ہے اور سرا قبال کی ذاتی ڈائری Stray) (Reflection میں صاف لکھا ہے۔”میرے دوست اکثر مجھ سے سوال کرتے ہیں کیا تم خدا کے وجود پر یقین رکھتے ہو ؟ اگر میرے دوست اپنے سوال کا جواب چاہتے ہیں تو ان کو مجھے پہلے سمجھانا چاہیے کہ یقین، وجود اور خدا بالخصوص آخر الذکر دو لفظوں سے اُن کی کیا مراد ہے۔مجھے اعتراف ہے کہ میں ان اصطلاحات کو نہیں سمجھتا ہوں۔“4 تصوف سے بغاوت 3۔اقبال فرماتے ہیں۔5" ”اس میں ذرا شک نہیں کہ تصوف کا وجود ہی سر زمین اسلام میں ایک اجنبی پودا ہے جس نے عجمیوں کی دماغی آب و ہوا میں پرورش پائی ہے۔جب تصوف فلسفہ بننے کی کوشش کرتا ہے اور عجمی اثرات کی وجہ سے نظام عالم کے حقائق اور باری تعالیٰ کی ذات کے متعلق موشگافیاں کر کے کشفی نظریہ پیش کرتا ہے تو میری روح اس کے خلاف بغاوت کرتی ہے۔“6 ختم نبوت کی اشتراکی تفسیر اور اسلام سے بغاوت 4۔بیسویں صدی کا یہ المناک سانحہ ہے کہ سر اقبال نطشے، گوئٹے اور ہیگل کے تو بہترین ترجمان تھے مگر اُن کا مطہروں کے اس روحانی گروہ سے کوئی تعلق نہ تھا جن پر رب کریم کی طرف سے علوم قرآنی کھولے جاتے ہیں، اُن کا اپنا اقرار ہے:۔”میری مذہبی معلومات کا دائرہ نہایت محدود ہے۔میری عمر زیادہ تر مغربی فلسفہ کے مطالعہ میں گزری ہے اور یہ نقطہ خیال ایک حد تک طبیعت ثانیہ بن گیا ہے۔دانستہ یانا دانستہ میں اسی نقطہ خیال سے حقائق اسلام کا مطالعہ کرتا ہوں۔“7 نیز اعتراف کرتے ہیں۔میں جو اپنی گزشتہ زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ میں 8" نے اپنی عمر یورپ کا فلسفہ پڑھنے میں گنوائی۔“8