مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 66 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 66

66 دیہاتوں میں اس وقت بھی کسی نہ کسی شکل میں مروج ہے۔زمانہ حال کے بعض فلسفی اس بات پر مصر ہیں کہ تمدن کی یہی صورت سب سے اعلیٰ اور افضل ہے۔جائدادِ شخصی تمام برائیوں کا سر چشمہ ہے۔لہذا اقوام دنیا کی بہبودی اسی میں ہے کہ ان بیجا امتیازات کو یک قلم موقوف کر کے قدیمی وقدرتی اصول مشارکت فی الاشیا کو مروج کیا جائے اور کچھ نہیں تو ملکیت زمین کی صورت میں ہی اس اصول پر عمل درآمد کیا جائے۔کیونکہ یہ شے کسی خاص فرد یا قوم کی محنت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ قدرت کا ایک مشترکہ عطیہ ہے جس میں قوم کے ہر فرد کو مساوی حق ملکیت حاصل ہے۔حال کی علمی بحثوں میں یہ بحث بڑی دلچسپ اور نتیجہ خیز رہی ہے۔لیکن اس کا مفصل ذکر ہم اس ابتدائی کتاب میں نہیں دینا چاہتے۔علم الاقتصاد میں جو بات اقبال نے کہی تھی، وہی اُنھوں نے تیس سال بعد بال جبریل کے اس شعر میں بھی دہرائی: دہ خدایا! یہ زمیں تیری نہیں، تیری نہیں تیرے آبا کی نہیں تیری نہیں، میری نہیں اس مندرجہ بالا اقتباس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہ ہو گا کہ 1903ء میں جب اقبال نے علم الاقتصاد لکھی تھی تو اس وقت ان کا ذہن سوشلزم کے اس تصور کو قبول کر چکا تھا جو انیسویں صدی کے وسط میں کارل مارکس نے ایک مکمل فلسفے کی شکل میں پیش کیا تھا۔روس میں مارکس کے فلسفہ کی کامیابی نے اقبال کے سوشلسٹ رجحان کو پختہ کر دیا۔لیکن مارکسیت میں خدا کے وجود سے انکار کا اور مذہب سے تنفر کا پہلو بھی مضمر تھا جو اقبال کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا تھا۔مگر اس جزوی اختلاف کے باوجود سوشلسٹ خیالات کی ترویج و اشاعت بھی وہ کرتے رہے۔اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ سوشلزم کے داعیوں کی طرح اقبال کو بھی سرمایہ داری اور سامراج سے شدید نفرت تھی۔وہ ان دونوں کو انسانیت کے لیے لعنت اور اسلام کی تعلیمات کے منافی سمجھتے تھے۔یہی جذبہ اُنھیں سوشلزم سے قریب لاتا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ سوویٹ نظام میں اگر خدا کے وجود کا اقرار بھی داخل ہو جائے تو وہ عین اسلام ہو گا۔خلیفہ عبدالحکیم کے الفاظ میں اقبال یہ سمجھتے تھے کہ "زاویہ نگاہ کی ذراسی تبدیلی سے اشتراکیت اسلام بن سکتی ہے یا اسلام اشتراکیت ہو سکتا ہے۔“