مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 52 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 52

52 ر کلیم او مسیح و او خلیل او محمد او کتاب او جبرئیل! آفتاب کائنات اہل دل، از شعاع او حیات اہل دل 4 سر اقبال نے اس ”مر دحق“ کی نشان دہی اور راہ نمائی کے لئے خبر دار کر دیا ہے کہ اسے مسلم دنیا میں تلاش نہ کرنا کیونکہ مسلمان ذوق و شوق سے عاری، علماء اسلام قرآن سے بے نیاز فرنگی مآب ہیں جو سراب سے چشمہ کو ثر تلاش کر رہے ہیں۔5 انہوں نے اکتوبر 1936ء کو جبکہ روس کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فتنہ انگیزیوں کے ہولناک واقعات منظر عام پر آچکے تھے، خواجہ غلام السیدین ڈائر یکٹر آف پبلک انسٹرکشنز جموں و کشمیر (سابق پرنسپل ٹرینگ کالج مسلم یونیورسٹی علی گڑھ) کو خصوصی مکتوب لکھا۔سوشلزم کے معترف ہر جگہ روحانیات کے مذہب کے مخالف ہیں اور اس کو افیون تصور کرتے ہیں۔لفظ افیون اس سے پہلے کارل مارکس نے استعمال کیا تھا۔میں مسلمان ہوں اور انشاء اللہ مسلمان مروں گا۔میرے نزدیک تاریخ انسانی کی مادی تعبیر سراسر غلط ہے۔روحانیت کا میں قائل ہوں مگر روحانیت کے قرآنی مفہوم کا جس کی تشریح میں نے ان تحریروں میں جابجا کی ہے اور سب سے بڑھ کر اس فارسی مثنوی میں جو عنقریب آپ کو ملے گی، جو روحانیت میرے نزدیک معضب ہے یعنی افیونی خواص رکھتی ہے ، اس کی تردید میں نے جابجا کی ہے۔باقی رہا سوشلزم، سو اسلام خود ایک قسم کا 6" سوشلزم ہے جس سے مسلمان سوسائٹی نے آج تک بہت کم فائدہ اٹھایا ہے۔“6 سر اقبال نے 28 مئی 1937ء کو قائد اعظم محمد علی جناح کی خدمت میں بصیغہ راز ایک مکتوب لکھا جس میں لیگ کے پروگرام پر تنقید کی کہ اس نے غریب مسلمانوں کی اصلاح احوال کی طرف قطعاً کوئی توجہ نہیں کی حالانکہ روٹی کا مسئلہ روز بروز شدید سے شدید تر ہو تا چلا جارہا ہے۔پھر لکھا۔” جواہر لال کی منکر خدا اشتراکیت مسلمانوں میں کوئی تاثر پیدا نہ کر سکے گی لہذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو افلاس سے کیونکر نجات دلائی جاسکتی ہے۔لیگ کا مستقبل اس امر پر موقوف ہے کہ وہ مسلمانوں کو افلاس سے نجات دلانے کے لئے کیا کوشش کرتی ہے۔اگر لیگ کی طرف سے مسلمانوں کو افلاس کی مصیبت سے نجات دلانے کی کوشش نہ کی گئی تو مسلمان عوام پہلے کی طرح اب بھی لیگ سے بے تعلق ہی رہیں گے۔“