مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 297 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 297

297 نہ وزیر اعلیٰ کو اپنے فرائض یاد آئے۔نہ اس ڈویژن کے نمائندہ وزیر کے کانوں پر کوئی جوں رینگی۔نہ کمشنر ، ڈی آئی جی، ڈپٹی کمشنر اور ایس پی صاحبان ہی کو اپنی ذمہ داریاں یاد آئیں۔اور نہ حکومتی پارٹی یاکسی اپوزیشن پارٹی ہی کو وزیر اعظم کی یقین دہانی کی لاج رکھنے کا خیال آیا۔یہ مکان اور دکانیں سارادن جلتی رہیں اور عوام کے مسلح پاسبان اس خونی ڈرامے کو دیکھ کر صرف ہنستے اور قہقے ہی لگاتے رہے۔فائر بریگیڈ اگر چند گھنٹوں کے بعد آئے بھی تو معتوبین کی املاک کو بچانے کے لئے نہیں بلکہ ادھر ادھر کے مکانوں اور دو کانوں کی حفاظت کے لئے۔جلائی جانے والی ان دوکانوں میں ایک ایسا بک ڈپو بھی تھا جس میں ہزاروں نسخے قرآن پاک کے تھے۔اللہ تعالیٰ پاکستان پر رحم کرے۔ان بر بریت کے ماتوں کو خدائے برحق کے پاکیزہ و منزہ کلام کو جلا کر خاکستر بنا دینے میں بھی کوئی خوف محسوس نہ ہوا۔“ احرار نے اسمبلی کی خالص سیاسی اور دستوری قرار داد کی آڑ میں دنیا بھر میں یہ پر زور پر اپیگینڈہ کیا کہ احمدی دائرہ اسلام سے خارج کر دیئے گئے ہیں۔اس لئے دوسرے مسلم ممالک بھی انہیں غیر مسلم بلکہ مرتد اقلیت قرار دیں تا یہ فتنہ صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح ہمیشہ کے لئے مٹا دیا جائے اور واقعات گواہ ہیں کہ مسٹر بھٹو اور ان کی حکومت نے اس ناپاک سازش کی تعمیل میں تحریک پاکستان کے دشمن احراری عناصر کی دل کھول کر امداد اور پشت پناہی کی۔بہت سے احمدیوں کو ملاؤں کی خوشنودی اور انتخاب جیتنے کی خاطر ظالمانہ طور پر ان کی ملازمتوں سے نکال باہر کیا اور ان پر قافیہ حیات تنگ کر کے پاکستان سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔بے شمار احمدیوں کو جیل خانوں میں ٹھونس دیا گیا اور کئی عشاق رسول عربی صلی الل علم محض احمدی ہونے کے جرم میں نہایت بے دردی سے شہید کر دیئے گئے مگر حکومت نے ہر قاتل کو ”غازی ختم نبوت “سمجھتے ہوئے قتل وغارت کی کھلی چھٹی دے دی اور کسی ایک کو بھی گرفتار کر کے سزا نہیں دلوائی۔اسی پر بس نہیں اس نے ربوہ کے غریب احمدیوں کی 19 ایکڑ زمین غصب کر کے اپنے محبوب طائفہ کے حوالہ کردی تا وہ اپنی مسجد ضرار اور احراری کالونی کے ذریعہ مرکز احمدیت کو فتنہ و فساد کا مستقل اڈہ بنالیں۔