مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 283 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 283

283 آزاد ہونے کے باوجود آٹھ برس کی لمبی مدت تک ہمارا اپنا کوئی دستور نہ تھا اور ہم ایک غیر قوم کے متروکہ دستور کے تحت۔۔۔۔کام چلا رہے تھے۔زندگی کے لئے کوئی نظریہ نہ تھا۔عمل کے لئے نصب العین کی کوئی منزل نہ تھی۔منزل تک لے جانے والا راستہ معین نہ تھا۔تعمیر کا کوئی نقشہ طے نہ تھا۔گویا ہم اندھیرے میں بھٹکتے پھر رہے تھے۔اب ہمارے ہاتھوں میں اپنا بنایا ہوا ایک دستور ہے۔اس دستور میں ایک ملی نصب العین طے کر دیا گیا۔اس نصب العین کے اصولی تقاضے متعین کر دیئے گئے ہیں اور بہ حیثیت ایک مسلم ملت کے ہم نے مطلوبہ تبدیلیوں کو اس دستوری نقشے میں سامنے رکھ لیا ہے۔اب ہم خدا خدا کر کے دنیا کی آزاد اقوام سے آنکھیں چار کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ہماری آزادی اور ہماری حاکمیت 22 مارچ 1956ء کے نیم شب تک ملکہ برطانیہ کی نمائندگی کرنے والے ” فرد واحد کے پاس رہن تھی اور اب 23 مارچ سے اس کا فک رہن عمل میں آیا ہے۔اس سے قبل 1935ء کے ایکٹ کے رُو سے سرے سے ہمارا کوئی شہری حق نہ تھا۔اب پہلی مرتبہ ہم دستوری حیثیت سے کچھ نہ کچھ شہری حقوق کے مالک ہوئے ہیں اور ایک آزا دریاست کے شہریوں کے مرتبے کو پہنچے ہیں۔گومگو کا ہشت سالہ دور جس میں ایسے مواقع پیدا ہوئے کہ آمریت اپنے ڈراؤنے چہرے کے ساتھ قومی زندگی کے دروازے سے آکر جھانکتی رہی، اس دستور کے نفاذ کے ساتھ ختم ہو گیا۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اس دستور میں خدا کی حاکمیت کے اقرار کے ساتھ یہ بنیادی اصول مان لیا گیا ہے کہ قانون سازی کا اساسی سر چشمہ اور معیارِ فیصلہ کتاب وسنت کی شریعت ہو گی۔یہ اسلامی رجحان کی ایک کھلی کھلی فتح ہے۔الحاد پسند مغرب زدہ عناصر پر باوجودیکہ اس اصول کو عمل میں لانے کے لئے جو طریق کار تجویز کیا گیا ہے ، وہ حد درجہ ناقص اور ڈھیلا ڈھالا ہے تاہم ایک مسلمان قوم کے اندر اس اصول کے طے پاجانے کے بعد کسی طاقت کی یہ مجال نہیں ہو سکتی کہ وہ کتاب وسنت کے خلاف قانون سازی کرتی چلی جائے۔یہ چند ایسے کھلے کھلے وجوہ ہیں جنہوں نے 23 مارچ کی تقریب پر عوام کے دلوں میں ایک نئی روح دوڑا دی ہے۔“