مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 282 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 282

282 حصوں میں نافذ کر دیا گیا۔اس دستور کا ملک بھر میں جس جذبہ اور جوش و خروش کے ساتھ سیاسی پارٹیوں اور عوام نے خیر مقدم کیا، وہ ایک دیدنی منظر تھا جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔احراری لیڈر شورش کا شمیری نے لکھا:۔” ہمارے لئے یہ امر انتہائی مذمت کا باعث تھا کہ ہم نو سال کی مدت میں بھی دستور بنانہ سکے جو کچھ وہ بوجوہ غارت ہو تا رہا۔بحمد اللہ اب چوہدری محمد علی کی مساعی مشکور سے پاکستان 23 مارچ کو جمہوریہ اسلامیہ کی شکل اختیار کرے گا۔۔۔۔نا انصافی ہو گی اگر ہم اس پر چودھری محمد علی صاحب کو مبارکباد نہ دیں۔2 جماعت اسلامی کے ترجمان ماہنامہ ”ترجمان القرآن لاہور نے اپریل 1956ء کو خصوصی ادار یہ سپر د قلم کیا کہ :- :- دستور کا خیر مقدم جس جذبہ وجوش کے ساتھ عوام نے کیا ہے اور ”یوم جمہوریہ اسلامیہ پاکستان کی تقریب جس دلی ذوق و شوق سے منائی ہے، اس کا انہیں في الواقع حق پہنچتا تھا۔”یوم آزادی“ کی سرکاری تقریب کے مقابلے میں یہ تقریب صحیح معنوں میں عوامی تھی اور اسی وجہ سے اس کا معیار اور پیمانہ زیادہ اونچار ہا۔پاکستان کی ایک ایک مسجد میں اسلام اور پاکستان اور ملت کی سربلندی کے لئے دعائیں مانگی میں۔دستور کے موضوع پر جامع مساجد میں خطبات دیئے گئے۔جلسوں میں اسلامی نظام پر تقریریں کی گئیں۔شکرانہ کے نوافل پڑھے گئے۔غریبوں کو کھانے کھلائے گئے اور مختلف اسالیب سے لوگوں نے اپنے جذبات مسرت کا اظہار کیا۔یہ فی الواقع ایک حقیقی مسرت کا موقع تھا۔ہماری سیاسی و قومی تاریخ میں ایک بڑا دن 14 اگست 1947ء کا تھا اور اب دوسرا بڑا دن 23 مارچ 1956ء کا دن قرار پایا ہے۔اُس دن ہمارے جغرافیے میں ایک تبدیلی واقع ہوئی تھی اور اس دن سے ہماری تاریخ میں تغیر آرہا ہے۔اُس دن زمین کی لوح پر نئی لکیریں کھینچی گئی تھیں اور اس دن ہماری زندگی کے نامہ تقدیر پر نئے نقوش نمودار ہورہے ہیں۔اُس دن ملتی زندگی کا محض نیا قالب کھڑا کیا گیا تھا اور اس دن اس قالب میں اصول و مقصد کی روح پھونکی جارہی ہے۔66 اس کے بعد دستور کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا:۔