مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 241 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 241

رکھے گی۔“21 241 پھر انہوں نے باور کرایا کہ اس ایجی ٹیشن میں برٹش انڈیا کے ہر مسلمان پر اس تحریک میں شمولیت واجب ہے۔لہذاوہ برطانیہ کی خاطر اسلام سے باغی“ نہ ہوں۔اس ضمن میں یہاں تک کہہ ڈالا :- مسلمان ہندوستان کی مسجدوں اور ان کے اندر نماز کولے کر کیا کریں گے جن کی اجازت دے دینے پر برٹش گورنمنٹ کو ناز ہے۔جبکہ شریعت کے وہ احکام (یعنی عراق اور بیت المقدس پر غیر مسلموں کے قبضہ سے متعلق۔ناقل ) ان کے سامنے آجائیں گے جن کی تعمیل ہزار نمازوں سے بھی بڑھ کر اور ہزار روزوں سے بھی اشد واہم ہے اور جن کی نافرمانی کے بعد نہ تو اُن کی نمازیں ان کے لئے سود مند رہیں گی نہ ان کے روزے ہی نجات دلا سکیں گے۔22 مسلم لٹریچر میں قدیم وجدید آئمہ مضلین کے بہت سے فتاویٰ محفوظ ہیں مگر ایسا گمراہ کن فتویٰ جو الحاد وزندقہ سے رنگین ہے کسی فرقے یا کسی مفتی نے آج تک نہیں دیا۔اس لئے کہ نماز اور روزہ اسلام کے پانچ بنیادی احکام میں شامل ہیں جن کی بجا آوری فرض ہے۔جس کا عرب کے کسی علاقہ پر غیروں کے تسلط یا عدم تسلط سے قطعا کوئی تعلق نہیں۔نہ آنحضرت صلی علیم نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کو عرب ممالک کی اندرونی سیاست میں دخل دینے اور اس کی بناء پر اپنے وطن میں بغاوت برپا کرنے کی سند جواز دی ہے۔یہ خالص ”گاندھی اسلام“ ہے اور ”نہر وسوشلزم“ ہے۔ایسا فتوییٰ وہی شخص دے سکتا ہے جس کا پیشہ ہی اپنی مطلب براری کے لئے قرآن کو بازیچہ اطفال بنانا ہو اور یہ جسارت اسلام کے بھیس میں بابی اور بہائی مبلغ کر سکتا ہے۔وجہ یہ کہ بہائیوں کی اصل نماز اپنے معبود بہاء اللہ سے دعا ہے جو ہر جگہ ہو سکتی ہے۔اور اس کے لئے کسی عبادت گاہ کی ضرورت نہیں اور نہ باجماعت نماز جائز ہے۔3 عبادت کے وقت گانے بجانے کا انگریزی باجہ ہر جگہ رکھا جاسکتا ہے۔”الا قدس“ کے مطابق مسافر، مریض اور بوڑھوں کو نماز بالکل معاف ہے اور جن پر نماز واجب ہے انہیں سورج چڑھتے ، ڈھلتے اور غروب کے وقت تین نمازیں پڑھنی پڑتی ہیں اور وہ بھی اس قدر کہ بہاء اللہ کے مدفن کو قبلہ بنا کر کھڑا ہو جائے اور چند منٹوں میں تین رکعتیں ادا کرے جن میں بہاء اللہ کی مقررہ دعائیں پڑھے اور رکوع اور سجدہ کرلے۔4 اس پہلو پر مزید تبصرہ کی بجائے یہ بتانا از بس ضروری ہے بہائیت میں مثالی مبلغ و ہی شمار ہوتا ہے 23 24