مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 240 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 240

240 دعوت دیتے ہیں کہ میں حصہ لوں۔۔۔۔اپنا جو فرض اسلامی سمجھتا ہوں اس کے مطابق لوگوں کو بتلاؤں گا کہ انہوں نے کیسا غلط اور گمراہ کن طریقہ اختیار کیا ہے۔اسی پر بس نہ کرتے ہوئے مزید لکھا: ،، ” مجھے قطعاً اس سے انکار ہے کہ عوام کی یہ ذہنیت بنانے کی کوشش کی کہ کوئی چوہا اچھلا اور انہوں نے رونا پیٹنا شروع کر دیا کہ اسلام کی کشتی ڈوب گئی۔جہاں کسی آریہ نے کوئی بات کسی جلسے یا اخبار میں کہہ دی اور بس شور مچانا شروع کر دیا کہ اسلام ختم ہو گیا۔۔۔۔آپ نہیں جانتے کہ اس طریقے سے مسلمانوں کی جماعتی ذہنیت کس طرح قتل کی جارہی ہے۔۔۔۔ان میں خفیف الحرکتی ، چھچھورا پن اور دوں ہمتی کی تخم ریزی کی جارہی ہے اور اس کا نام رکھا جاتا ہے فدائیان رسول کی فداکاریاں۔۔۔۔کیا لغویت ہے اگر کسی ایسی کتاب کے لکھ دینے سے نعوذ باللہ رسول اور امہات المؤمنین کا سوال پیدا ہو جاتا ہے تو ان بر خود غلط لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ دنیا میں تو کب سے ناموس کا خاتمہ ہو گیا ہے۔۔۔۔خدارا اخبار فروشوں کی تقلید اعملی میں اس طرح وارفتہ نہ ہو جاؤ۔“19 اس بیان نے عشاق رسول عربی کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کیونکہ یہی کا نگر سی امام الہند تھے جنہوں نے اس سے قبل مسٹر گاندھی کی سرپرستی میں تحفظ خلافت، خلاف شریعت اور خلاف قانون تحریک چلائی اور اس ایجی ٹیشن میں انہوں نے نہ صرف لاکھوں مسلمانوں کو دہشت گرد بنا دیا بلکہ ان کو بے خانماں اور برباد کر کے افغانستان کی طرف دھکیل دیا تا ہند و سرمایہ دار ان کی جائیداد پر قابض ہو سکیں۔یہ ایجی ٹیشن ناموس رسالت کے مقابلہ میں اتنی بھی حیثیت نہ رکھتی تھی جتنی آفتاب کے مقابلہ میں ذرہ ناچیز کی ہوتی ہے کیونکہ ان کا قطعی یقین تھا کہ سلطان ترکی کی ہر گز ”اسلامی خلافت نہ تھی۔یہ ایک خود ساختہ منصب تھا۔20 بایں ہمہ انہوں نے آل انڈیا خلافت کمیٹی کے ذریعہ ایک طرف عامتہ المسلمین سے روپیہ اکٹھا کیا اور دوسری طرف معصوم مسلمانوں کو قانون شکنی کی اشتراکی راہوں پر ڈال دیا۔انہوں نے کمیٹی کے قیام پر ان الفاظ میں پراپیگینڈا کیا: " تمام مسلمانوں کو ان ہمدردان ملت کا شکر گذار ہونا چاہئے جنہوں نے آل انڈیا خلافت کمیٹی کی بنیاد ڈالی۔۔۔۔خلافت کمیٹی روپیہ جمع کرے گی، ایجی ٹیشن جاری