مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 199 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 199

199 قادیاں مرزا براندام مرے نام سے کہ میں ویران یہ عمارت بھی کیا کرتا ہوں کیا تعجب کہ احرار بھی گرما جائیں کہ میں پیدا یہ حرارت بھی کیا کرتا ہوں ہندوؤں کو میں ملاتا ہوں مسلمانوں سے کانگرس کی میں سفارت بھی کیا کرتا ہوں 17 مولوی ظفر علی ایڈیٹر زمیندار گاندھی ، نہرو، مالوی جی اور دوسرے متعصب ہندوؤں کے ارادت مند تھے۔یہ شعر انہی کا ہے۔جو مولوی نہ ملے گا تو مالوی ہی سہی خدا خدا نہ سہی رام رام کر لیں گے پنڈت نہروجی کے سفر یورپ کے بعد انہوں نے فرمایا۔جس آزادی کی تلقین آج ہوتی ہے بنارس میں کبھی یہ کان سنتے تھے مدینہ سے پیام اس کا مولانا عبد المجید سالک نے اپنے روزنامہ انقلاب 27 جنوری 1928ء میں ”افکار وحوادث“ کے مشہور کالم میں اس پر زبر دست تنقید کرتے ہوئے لکھا:۔شعر بالکل صاف ہے اور اس کے الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ ایک زمانہ وہ تھا کہ مدینہ منورہ سے آزادی کا پیام ملا کر تا تھا۔آج اسی آزادی کی تلقین بنارس سے ہورہی تھی۔گویا جو پیغام آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پیشتر حضور رسالت مآب صلی ا ہم نے دیا تھا وہی آج بنارس میں پنڈت مالوی جی مہاراج دے رہے ہیں۔شعر سے ظاہر ہو تا ہے کہ مدینہ والا پیام تو اب کانوں تک نہیں پہنچتا لیکن بنارس کی تلقین آج بھی زندہ و قائم موجود ہے۔نعوذ باللہ منھا۔اس شعر میں بہت بے احتیاطی سے کام لیا گیا ہے۔تو ہین واضح ہے۔ہم شاعر صاحب سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ بنارس کے ساتھ