مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 198 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 198

198 کے انہیں سرکاری طور پر غیر مسلم قرار دیا جائے۔یہ اقدام مظلوم مسلمانوں کے سیاسی اور ملی جسم میں خنجر گھونپنے کے مترادف تھا۔احرار کانفرنس 1934ء یہ مطالبہ احرار کا نفرنس کے آخری اجلاس منعقدہ 23 اکتوبر 1934ء کو بذریعہ قرار داد کیا گیا جو مولوی ظفر علی خاں 14 نے پیش کی۔یہ وہی صاحب تھے جو تحریک خلافت کے زمانہ سے گاندھی، نہر و اور دوسرے متعصب ہندو لیڈروں کے غلام بے دام بن گئے تھے۔وہ اس معاملہ میں اس قدر غالی تھے کہ انہوں نے 23 جولائی 1921ء کو لاہور کے ایک جلسہ عام میں یہاں تک کہہ ڈالا ”ہندوؤں نے اور مہاتما گاندھی نے مسلمانوں پر احسان کئے ہیں۔ان کا عوض ہم نہیں دے سکتے۔ہمارے پاس زر نہیں ہے۔جب چاہیں ہم حاضر ہیں۔“15 مولوی ظفر علی خاں کے عقیدت مند اُن کے منظوم کلام کو شعری الہامات“ سے بھی تعبیر کر تے ہیں۔گاندھی کی شان میں اُن کے چند تاریخ ساز اشعار ملاحظہ ہوں۔”گاندھی نے آج جنگ کا اعلان کر دیا باطل سے حق کو دست و گریبان کر دیا سر رکھ دیا رضائے خدا کی حریم پر کو پھر حوالہ شیطان کر دیا تن من کیا ثار خلافت کے نام پر سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کر دیا پروردگار نے کہ ہے وہ منزلت شناس گاندھی کو بھی یہ مرتبہ پہچان کر دیا 16 مولوی صاحب معاندین احمدیت کی صف اوّل میں شمار ہوتے تھے اور انہیں سفیر کانگرس ہونے پر بے حد فخر تھا جس کا کسی قدر اندازہ اُن کے درج ذیل اشعار سے بخوبی لگ سکتا ہے۔