مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 191 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 191

191۔مسلمانوں کے لیے خدمتیں ہوں اور نشستیں، سکھوں کے لیے بھی ہوں، اینگلو انڈین جماعت کے لیے بھی اور یورپین گروہ کے لیے بھی۔مگر ہوں خدمتیں سب اعلی طبقہ کے لیے، بیچارے عوام کو ان میں ذرا دخل نہ ہو۔ابن الوقتی کا دور دورہ تھا اور مختلف گروہ بھوکے بھیڑیوں کی طرح شکار کی گھات میں تھے ، بس یہی فکر کہ نئے دستور سیاسی میں کچھ لے مریں۔خود آزادی کے تصور نے بڑے پیمانے پر خدمت طلبی کی شکل اختیار کرلی تھی، جسے Indianisation یا 'ہندیانا' کہتے تھے، یعنی فوج میں ہند وستانیوں کو زیادہ خدمتیں ملیں، سول سروس میں بھی زیادہ ملیں وغیرہ وغیرہ۔خود مختاری حقیقی آزادی، جمہوری ہند کو طاقت اور اختیار کی منتقلی، یا ہندوستانی قوم کے کسی اہم اور ضروری معاشی مسئلہ کے حل کا وہاں ذکر ہی نہ تھا۔کیا اسی کے لیے ہندوستان نے یوں مردانہ وار جد وجہد کی تھی؟ اور کیا ایثار و قربانی کی اس لطیف فضا کو کانفرنس کی کثیف ہو اسے بدلنا ضروری تھا؟ اُس سنہرے اور بھرے ہوئے ہال میں گاندھی جی بیٹھے تھے ، یکہ و تنہا، ان کا لباس یا بے لباسی، انہیں اور وں سے ممتاز کرتی تھی مگر ان میں اور ان کے خوش لباس ہم نشینوں میں افکار اور نقطہ نظر کا فرق اس سے بھی زیادہ تھا۔اس کا نفرنس میں ان کی حیثیت بڑی ہی مشکل کی تھی۔اور ہم یہاں دور سے بیٹھے حیرت کرتے تھے کہ یہ اسے کس طرح برداشت کر رہے ہیں۔لیکن وہ حیرت انگیز صبر کے ساتھ اپنا کام کئے گئے اور پیہم کوشش کرتے رہے کہ سمجھوتہ کی کوئی صورت پید اہو۔اُنہوں نے ایک خاص بات کی جس نے ایک مرتبہ یہ راز فاش کر دیا کہ فرقہ پروری کے پردہ میں دراصل ترقی دشمنی نہاں ہے۔کانفرنس کے مسلمان نمائندوں نے جو فرقہ دارانہ مطالبات پیش کئے تھے ، گاندھی جی ان میں سے بہتوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔ان کا خیال تھا اور ان کے مسلمان قوم پر اور ساتھیوں کا بھی یہی خیال تھا کہ ان مطالبات میں سے بعض آزادی اور جمہوریت کی راہ میں حائل ہوں گے۔پھر بھی انہوں نے کہہ دیا کہ میں بلا پوچھے گچھے اور بے دلیل و بحث ان سب مطالبوں کو مان لو نگا اگر مسلمان نمائندے سیاسی مطالبہ یعنی خود مختاری کے مطالبہ میں میرے ساتھ اور کانگرس کے ساتھ مل جائیں۔یہ بات انہوں نے بالکل شخصی طور پر کہی تھی اس لیے کہ وہ اس وقت تو