مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 186
186 جس میں بھاری اکثریت مسلمانوں کی ہے مگر پاکستان کی اسکیم یہ ہے کہ مسلم صوبوں کی ایک جدا گانہ وفاقی ریاست کا قیام عمل میں آئے جس کی حیثیت ایک ڈومینین کی ہو اور اس کا انگلستان سے براہ راست رشتہ ہو۔یہ اسکیم کیمرج سے شروع کی گئی ہے اور اس کے مصنفوں کا خیال ہے کہ گول میز کانفرنس کے ہم مسلم ممبروں نے ہندویا 5" نام نہاد ہندوستانی قوم پرستی کی قربان گاہ پر مسلم قوم کو قربان کر دیا ہے۔“5 گول میز کانفرنس اور سر اقبال یہ حقیقت ہے کہ سر اقبال دوسری راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس میں مسلم وفد کے ممبر کی حیثیت سے شامل ضرور ہوئے مگر انہوں نے مسلم حقوق کے تحفظ سے قطعاً کوئی دلچسپی نہ لی۔چنانچہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب تحریر فرماتے ہیں: ”لندن میں ان کا ورود وہاں کے فلسفی، ادبی اور مستشرقین حلقوں میں بہت دلچسپی کا موجب رہا۔والڈ ارف ہوٹل میں آپ کے اعزاز میں وسیع پیمانہ پر استقبالی دعوت کا انتظام ہو ا۔ڈاکٹر صاحب اپنے پرانے اور نئے احباب کی ملاقاتوں سے بہت محظوظ ہوئے۔لیکن کا نفرنس کی سست رفتاری سے اُن کی طبیعت بہت اکتائی رہی۔"6 کانگرسی سیاست کا فرقہ پرستانہ مفاد اسی میں تھا کہ علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال جیسی مسلمان شخصیت مسلم اقلیت کے مسئلہ میں چپ سادھے رہے۔چنانچہ وہ اس میں کامیاب ہوئے اور اس طرح ان کا سکوت کا نگرسی موقف کی تقویت کا موجب بنا اور اگر راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس کی روداد کا باریک نظری سے مطالعہ کیا جائے تو قائد اعظم کا کانگرسی رویہ سے بیزار ہو کر انگلستان ہی میں مستقل قیام کے فیصلہ میں اقبال کی مصلحت آمیز خاموشی کا بھی بھاری عمل دخل تھا۔گول میز کانفرنس اور انڈیا ایکٹ کے نفاذ سے قبل مطالبہ اقلیت آل انڈیا نیشنل کانگرس اور احرار ، رام راج کے لئے ملک بھر میں اپنی سکیم کے مطابق پورے زور وشور سے باغیانہ کارروائیاں کر رہے تھے۔اور اُن کا یقین تھا کہ وہ برٹش حکومت کو ہتھیار ڈالنے اور ملک بدر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور مسلمانوں اور ملک کی دوسری اقلیتوں کے مستقبل کے بارے میں ہندو کانگرس خود فیصلہ کرے گی۔لیکن حکومت نے اس کے سامنے جھکنے کی بجائے مسلم حقوق اور دوسرے فرقہ وارانہ مسائل کے حل کے لئے تین بار لندن میں گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا۔