مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 177 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 177

177 تاریخ احرار کا پہلا اور دوسرا ایڈیشن ملاحظہ فرمائیے تو ان میں ”سوشلزم“ کے حوالہ سے احمدیت اور تحریک پاکستان دونوں کو برطانوی امپر یلزم کا ایجنٹ قرار دیا گیا ہے۔حد یہ ہے کہ اس کتاب میں کانگرس کے ہر مخالف مسلمان کو مسلمان نما، کفر پر ور ، ز له خواران افرنگ، لیگی یا غیر لیگی پشتینی کاسہ لیس اور غدار بلکہ دشمن اسلام کی گالی دینے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔6 احرار کے ”امام الہند“ ابوالکلام آزاد نے 1905ء میں بنگالی ہندوؤں کے ساتھ ملک کر ملک بھر کے امن وامان کو ملیامیٹ کرنے کی خاطر غدر پارٹی میں شرکت کی تھی۔اس لئے احراری ”انقلابی“ میں شرکت کی تھی۔اس لئے احراری انقلابی رہنماؤں کے نزدیک 1857ء کو غدر کہنے والا فرنگی سامراج کا ازلی ابدی کاسہ لیس تھا۔7 مفکر احرار چوہدری افضل حق نے ”آزادی ہند میں لکھا کہ۔”ہندوستان میں ایسے عالم، ایسے مصلح ایسے نبی پیدا ہو گئے جنہوں نے انگریزوں کی خوشنودی کے لئے جہاد کو منسوخ قرار دیا اور تمام مسلمانوں نے اپنے سکوت سے اس تنسیخ کی تائید کی۔8" اسی کتاب میں مفکر احرار “ نے ہندوستانی مسلمانوں کو یقین دلایا کہ :- اسلام کو روس کے اقدامات سے کوئی خوف نہیں بلکہ اس کا اقتصادی پروگرام اسلامی پروگرام ہے۔۔۔۔۔اسلام نے دنیا کو مساوات کی بنیاد پر نئی تعمیر کی دعوت دی۔روس کے اقدامات اس اسلامی دعوت کی تجدید ہیں۔“و بالفاظ دیگر کارل مارکس، اینجلز، لین اور سٹالین یہ سب ”مجد دین“ اسلام تھے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔مفکر احرار سوشلزم کی تبلیغ کا حق ادا کرنے کے فوراً بعد تخیل پاکستان کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں: علیحدہ تنظیم کے مدعی ملک کی مستقل نامرادی ہیں۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا کے تصور کو بتدریج دماغوں سے محو کر دیا جائے۔“10 اب اگر " مفکر احرار “ کی تصانیف کے بعد ان کی مشہور تقریروں کا جائزہ لیا جائے تو قریباً ہر اہم خطاب میں سوشلزم کا پر چار اور جماعت احمدیہ اور تحریک پاکستان پر تنقید یہ تینوں موضوع یکجا اور متوازی رنگ میں ضرور ملیں گے۔مثلاً آل انڈیا احرار کا نفرنس پشاور (7 تا 9 اپریل 1939ء) کے صدارتی خطبہ میں سے اُن کے چند فقرات ملاحظہ ہوں: