مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 156
156 تھی۔جواہر لعل نے بتایا کہ ”ہندوستان سامراجی استحصال کی اولین مثال تھا۔برطانیہ کی پالیسی یہ تھی کہ ہندوستانیوں کے درمیان اختلافات پیدا کیے جائیں۔جہاں پہلے سے یہ اختلافات موجود ہوں، انہیں اور ہوادی جائے۔رجواڑوں، نوابوں، جاگیر داروں کے ہاتھ مضبوط کیے جائیں۔دولت مند زمینداروں کی حمایت اور سر پرستی کی جائے۔برطانیہ اور ہندوستان کے سرمایہ داروں کے ناپاک گٹھ جوڑ کو ہر طرح تقویت پہنچائی جائے۔جواہر لعل نے اقتصادیات اور سیاسیات کی باہم پیوستگی کے نئے شعور کے ساتھ تقریر اس طرح ختم کی تھی کہ ”برطانیہ اپنے سرمایہ دارانہ اور آمرانہ عزائم کی تکمیل کے لیے ہندوستان کو اپنا محکوم اور غلام بنائے رکھنا چاہتا ہے اور اس کے لئے ہر ممکنہ ذرائع اور طاقت کا استعمال کر رہا ہے“۔پہلی بار برطانوی شہنشاہیت کی محض مذمت کرنے، اسے بُرا بھلا کہنے کے بجائے جواہر لعل نے اب اس کے طرز عمل اور محرکات کو سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ان کی یہ فکر انگلی سمت میں ایک بڑی جست تھی۔ہندوستان کے تعلق سے قرار داد کا مسودہ جواہر لعل نے تیار کیا تھا جس کی کانفرنس نے پر زور تائید کی۔اس قرارداد میں ہندوستان کو بیرونی اقتدار سے آزاد کرانے اور ہر قسم کے جبر واستحصال سے نجات کو پوری دنیا کے عوام کے لیے ضروری اقدام قرار دیا گیا تھا۔تمام دوسرے ملکوں کے عوام اور مزدورں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اس کام میں بھر پور حصہ لیں اور خاص طور سے ہندوستان میں بیرونی فوجی دستوں کے بھیجے جانے اور ہندوستان میں قابض فوج کی موجودگی کے خلاف پر زور احتجاج کریں۔یہ بات جواہر لعل نے بطور خاص اپنے ہندوستانی بھائیوں کے لیے کہی تھی۔مصنف گوپال کانگریس کے کوائف پر روشنی ڈالنے کے بعد ر قمطراز ہیں: "However, it was the Soviet Union that now dominated Jawaharlal's mind, just as it had an unseen presence, dominated the Brussels conference۔He read all that he could lay hands on, books both by partisans and by critics, about developments and conditions in that country, and found much to admire۔He believed that whatever the tradition of hostility between Britain and Russia, to a free India she would be no threat: and even if India were wholly opposed to communism she could have friendly relations with Russia۔Jawaharlal 'far-seeing as ever' recognized that