مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 155
155 on freedom, Jawaharlal, in the last paragraph of the resolution, expressed the hope of the conference that the Indian national the full movement would base its programme emancipation of the peasants and workers of India, without which there can be no real freedom, and would cooperate with the movement for emancipation in other parts of the world۔"3 خلاصہ اس تحریر کا یہ ہے کہ۔اس کا نفرنس کے تعلق سے سوویت یونین کارو یہ بالکل بے تعلقانہ رہا اور وہاں سے کسی فرد نے اس میں شرکت نہیں کی۔اگر چہ، جیسا کہ جواہر لعل کو اس وقت بھی یہ خیال تھا کہ کا نفرنس کے مقاصد کسی صورت سوویت یونین کی خارجہ پالیسی کے مغائر نہیں تھے۔اس کا بنیادی مقصد سامراجیت بالخصوص برطانوی سامراجیت کے خلاف تمام مخالف نو آبادیاتی طاقتوں اور مز دور تنظیموں کو ایک محاذ پر لانا تھا۔جواہر لعل جانتے تھے اور انہوں نے صلاح بھی دی تھی کہ ہندوستان سے کانگریس کا ایک بڑا ڈیلی گیشن معاشیات اور فوجی معاملات کے ماہرین کی سرکردگی میں اس کا نفرنس میں شرکت کے لیے بھیجا جائے۔یہ ممکن نہ ہو سکا اور ہندوستان کے واحد نمائندے جواہر لعل ہی رہے۔لازماً ایک ایسی کا نفرنس میں جس کا اصل نشانہ برطانوی سامراجیت تھی، ہندوستانی کانگریس کے سرکاری نمائندے کی بہت اہمیت تھی۔جواہر لعل پریسیڈیم کے بھی رکن چنے گئے۔وہ فروری کو بر سلز پہنچے۔تمام غیر رسمی جلسوں میں شرکت کی۔ایک رسمی جلسے کی صدارت کے فرائض بھی انجام دیئے اور کئی قرار دادوں کی تیاری میں حصہ لیا۔جواہر لعل اس کا نفرنس میں شریک بہت سے لوگوں سے ملے اور چند شخصیتوں نے (جس میں خواتین بھی تھیں) ان کو بے حد متاثر کیا، نیز مارکسٹ اور ریڈیکل خیالات نے بھی ان کی فکر و نظر کو بطور خاص کشش کیا۔پریس کے اپنے پہلے بیان میں جواہر لعل نے سرسری طور پر دنیا کے مختلف حصوں میں مخالف سامراج جہد کے عناصر سے بحث کی تھی اور اس طرف توجہ دلائی تھی کہ جس طرح ہندوستانی قومیت کی بنیاد انتہائی شدید بین الا قوامیت پر تھی اسی طرح ہندوستان کی آزادی کا مسئلہ ایک عالمی مسئلہ تھا۔یقین ماضی کی طرح مستقبل میں بھی دنیا کے تمام دوسرے ممالک اور عوام پر ہندوستان کے حالات کا اثر پڑے گا۔لیکن کانگریس کے افتتاحی اجلاس میں انہوں نے جو تقریر کی وہ بہت زیادہ پر مغز اور گہری