مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 136 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 136

136 بارھویں فصل مولوی اشرف علی صاحب تھانوی کا احتجاج جناب ابوالکلام آزاد کے ہمعصر دیوبندی عالم مولوی اشرف علی صاحب تھانوی چونکہ سیاسیات ہند کے عینی شاہد اور ابوالکلام آزاد اور ان کے دیوبندی رفقاء کے تمام مخفی حالات اور سرگرمیوں سے پوری طرح واقف تھے۔اس لئے وہ عمر بھر کانگرس کے زر خرید غلاموں اور ان کی ملی غداریوں پر سر تا پا احتجاج بنے رہے۔چنانچہ انہوں نے اس کو بالشویکی روس اور ہندوؤں کا ایجنٹ ثابت کرتے ہوئے واضح لفظوں میں بتا دیا۔دو کاموں کے خوب ہیں۔ایک تو جو بات گاندھی کے منہ سے نکل جائے، اس کو قرآن اور حدیث میں ٹھونسنا اور اُس پر منطبق کرنا۔دوسرا یہ کہ کوئی بات ہوئی لاؤ چندہ۔ان دونوں چیزوں میں کمال حاصل کر لیا ہے۔دیکھ لیجیے اتنا زمانہ گزر گیا، گاندھی نے کسی نئی بات کا اعلان نہیں کیا۔سب خاموش ہیں۔اب وہ کسی نئی اسکیم کی فکر میں ہو گا۔جستجو کر رہا ہو گا جہاں اُس نے کسی چیز کا اعلان کیا، پھر دیکھنا قرآن وحدیث میں بھی وہ چیز نظر آنے لگے گی اور کوئی چیز بھی تو اس تمام تحریک کی ایسی نہیں جو کسی سلمان لیڈر یا علماء کی تجویز کردہ ہو۔دیکھ لیجئے۔اوّل ہوم رول(Home Rule)، گاندھی کی تجویز بائیکاٹ اُس کی تجویز، کھلہ اُسکی تجویز، خلافت کا مسئلہ اُس کی تجویز، ہجرت کا سبق اُسکی تجویز، غرضیکہ جملہ تحریکات میں جس قدر اجزاء ہیں سب اُسکی تجویزات ہیں۔اُن کا صرف یہ کام ہے کہ جو اُس نے کہا لبیک کہہ کر ساتھ ہو لئے۔کچھ تو غیرت آنا چاہئے۔ایسے بد فہموں نے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کیا۔سخت صدمہ اور افسوس ہے۔پھر غضب یہ ہے کہ اُس کو قرآن وحدیث سے ثابت کرنے کی کوشش کی جائے اور اس کو واجب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اس سے علیحدہ رہنے والوں کو گمراہ اور مرتکب کبائر کا سمجھتے ہیں۔خدا معلوم لکھ پڑھ کر کہاں ڈبو دیا۔گاندھی کے اقوال کا انطباق قرآن و حدیث پر ایسا ہی ہے جیسے ایک گاؤں میں بوجھ بھجکڑ رہتا تھا۔اتفاق سے اُس گاؤں کے رہنے والوں میں سے ایک شخص کھجور کے درخت پر چڑھ گیا۔چڑھ تو گیا تھا مگر اترا نہ گیا۔تمام گاؤں جمع ہو گیا مگر کسی کے کوئی تدبیر ذہین میں نہ