مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 95 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 95

95 جس کا مقصد یہ تھا کہ ملک میں بنی ہوئی چیزوں کا استعمال کیا جائے۔تاکہ ایک تو ہند وصنعت کی سر پرستی ہو اور دوسرے بر طانوی کارخانہ دار بائیکاٹ کی صورت میں اپنی حکومت پر دباؤ ڈال کر اسے یہ فیصلہ واپس لینے پر مجبور کر سکیں۔اس تحریک کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔جہاں کہیں بھی ولائتی کپڑا ہاتھ آ جاتا، اس کو آگ لگا دی جاتی۔طلبا اپنے ان دوستوں پر جو ولائتی کپڑا استعمال کرتے ، حملہ کر دیا کرتے۔طلبا نے ولائتی کاغذ پر امتحان دینے سے انکار کر دیا۔مانچسٹر چیمبرز آف کامرس کو تار دیا گیا کہ اگر وہ بر طانوی کپڑا بیچنا چاہتے ہیں تو انہیں تقسیم بنگال ختم کرانے میں مدد دینی چاہیے۔16 تقسیم کے خلاف تمام بنگالی ہندوؤں نے حصہ لیا۔چنانچہ ایک لطیفہ مشہور ہو گیا کہ تقسیم کے خلاف تحریک میں حصہ لینے کے سبب ہر بنگالی مقرر بن گیا اور جو باقی رہ گئے وہ پروفیشنل صحافی بن گئے۔آہستہ آہستہ تحریک کا رخ مسلمانوں کی جانب موڑ دیا گیا۔ہند واخبارات نے کھلم کھلا مسلمانوں کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا جاتا۔روزانہ یہ الزام لگایا جاتا کہ گور نمنٹ مسلمانوں کو ہندوؤں پر حملہ کرنے کے لئے اکسا رہی ہے لہذا مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھالینے چاہئیں۔ایک اخبار نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ جب تک تمام غنڈوں (مسلمانوں) اور سرکاری افسر جوان کی مدد کر رہے ہیں، کو زندہ نہیں جلا دیا جائے گا، اس وقت تک مسلمانوں کے خلاف بدلہ لینے کی آگ ٹھنڈی نہیں ہو گی۔17 مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ادب اور ڈراموں کے ذریعہ پھیلایا گیا۔بنکم چندر چیڑ جی اس دور کا مقبول ترین مصنف تھا۔کیونکہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے میں وہ اپنا کوئی حریف نہیں رکھتا تھا۔اس دور کی ”ہندو ذہنیت کی بہترین عکاسی تقسیم بنگال کے خلاف ہند و تحریکوں کے عینی شاہد نراد چودھری نے اپنی کتاب میں کی ہے۔اس نے لکھا کہ ہم ابھی پڑھنا لکھنا بھی نہیں جانتے تھے کہ ہمیں یہ بتلایا جاتا تھا کہ ہم پر مسلمانوں نے حکومت کی تھی اوبے حد مظالم ڈھائے تھے۔انہوں نے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں تلوار لے کر مذہب کو پھیلایا ہے۔مسلمان حکمرانوں نے ہماری عورتوں کو اغوا کیا۔ہمارے مندروں کو منہدم کیا اور ہماری مذہبی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی۔1906ء کے آخر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی شکل دیکھنے میں آئی۔ہم اپنے بزرگوں سے سننے لگے کہ مسلمان علانیہ طور پر تقسیم بنگال کی حمایت کر رہے ہیں اور برطانیہ کے ساتھ ہیں۔نواب سلیم اللہ خاں ہمارے استہز او تمسخر کا خاص طور پر نشانہ بنا۔جس کو ہم حقارت سے ”کانا“