مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 83
مسلم نوجوانوں کے سندھ کارنامے جرات و بہادری 165 مسلمانوں نے نہایت ہی قلیل تعداد اور بے سروسامانی کی حالت میں چند ہی سالوں میں دنیا کا نقشہ بدل دیا تھا۔اسکی کئی ایک وجوہات ہیں۔جن میں سے ایک ان لوگوں کی غیر معمولی جرات و بہادری ہے۔ایمان نے ان کی قلبی کیفیت ایسی کر دی تھی۔اور مشق الہی میں انہیں اس قدر سرشار کر دیا تھا کہ اسلام کے مقابلہ میں وہ نہ اپنی زندگی کی کوئی قدر و قیمت سمجھتے تھے اور نہ اپنے عزیز واقارب کی۔ان کے حوصلے بلند اور ارادے اس قدر مضبوط تھے کہ سخت مشکلات کے وقت بھی وہ کسی بات سے خوف نہ کھاتے تھے۔ان کی جرات و بہادری کے واقعات تاریخ میں اس قدر بیان ہے کہ ان کے بیان کے لیے کئی تنخیم جلدیں درکار ہیں لیکن ہم یہاں بطور نمونہ چند ایک واقعات درج کرتے ہیں۔1- صحابہ کرام نے جب مدین میں داخل ہونا چاہا تو بیچ میں دریا ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔اس مشکل کا کوئی حل اس وقت نہ تھا۔آخران جواں مردوں نے نتائج سے بے پرواہ ہو کر اپنے گھوڑے دریا میں ڈال دیئے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی اور اکثر ان میں سے صحیح و سالم کنارے پر پہنچ گئے۔اور اس طرح دریا پار کر کے شہر میں پہنچے۔ایرانیوں نے دیکھا تو کہا کہ دیوان آمدند اور شہر کو خالی کر دیا۔2 قادسیہ کے میدان میں حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں جب ایرانیوں کے ساتھ فیصلہ کن جنگ ہوئی تو ایک سخت مشکل سامنے آئی۔ایرانی ہاتھیوں کو میدان جنگ میں لائے۔اور وہ جس طرف رخ کرتے مسلم مجاہدین کو کچلتے ہوئے چلے جاتے۔اور صفوں کی صفیں الٹ دیتے تھے۔حضرت قعقاع نے یہ تدبیر کی کہ اونٹوں پر سیاہ رنگ کے جھول ڈال کر ان کو ہاتھیوں کے مقابلہ پر کھڑا کیا۔مگر اس سے خاطر خواہ نتیجہ مرتب نہ ہوا۔حضرت سعد بن ابی وقاص اسلامی لشکر کے سپہ سالار تھے۔اور ہاتھیوں کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔انہیں مسلم نوجوانوں کے 166 بعض پاسی نومسلموں نے بتایا کہ اگر ان کے سونڈ اور آنکھیں بریکا ر کر دی جائیں تو پھر یہ کوئی ضر نہیں پہنچا سکیں گے۔آپ نے حضرت قعقاع ، حضرت محال اور حضرت ربیع کو اس پر مامور فرمایا۔ان تینوں بہادروں نے ہاتھیوں کو گھیرے میں لے لیا اور بر چھے مار مار کر ان کی آنکھیں ضائع کرنے لگے۔ہاتھیوں میں ایک سفید رنگ کا ہاتھی تھا جسے گویا ان کا سپہ سالار کہا جاسکتا تھا۔حضرت قعقاع نے جرات سے کام لے کر اس کے سونڈ پر ایسی تلوار ماری کہ وہ کٹ کر الگ جاپڑی۔اور وہ بے قرار ہو کر ایسا بے تحاشا بھا گا کہ سب ہاتھی اس کے پیچھے ہو لیے۔3 جرات و بہادری صرف اس کا نام نہیں کہ انسان تلوار کے ساتھ میدان جنگ میں دشمن کے ساتھ نبرد آزما ہو بلکہ صداقت کو اس وقت قبول کرنا جب ہر طرف سے اس کی مخالفت ہورہی ہو۔اور دشمن ایذا رسانی پر اترے ہوئے ہوں، اور صداقت کو قبول کرنا گویا اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہو۔اسکی حمایت کے لیے کھڑے ہو جانا اصل جرات و۔بہادری ہے اور صحابہ کرام کی زندگی میں اس بہادری کی مثالوں کی بھی کمی نہیں۔حضرت علی کی عمر بمشکل چودہ پندرہ برس کی ہوگئی کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے خاندان کو تبلیغ کرنے کے لیے ایک دعوت کا انتظام کیا۔جب سب لوگ کھانے سے فارغ ہو چکے تو آپ نے اٹھ کر ان کو دعوت اسلام دی اور فرمایا کہ میں تمہارے سامنے دین ودنیا کی بہترین نعمت پیش کرتا ہوں۔کون ہے جو میر ا معاون و مددگار ہو گا۔سب لوگ یہ بات سن کر چپ رہے لیکن حضرت علیم نے اٹھ کر فرمایا کہ گو میں سب سے چھوٹا ہوں اور کمزور ہوں تاہم آپ کا دست و بازو بنوں گا۔آپ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔پھر اسی سوال کو دہرایا۔آپ نے تین مرتبہ ایسا کیا لیکن تینوں مرتبہ کوئی نہ بولا۔سوائے حضرت علی کے کہ آپ نے تینوں مرتبہ کھڑے ہو کر آپ کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔اور اس بات کی کوئی پرواہ نہ کی کہ خاندان کے سب بڑے بڑے لوگ اس بار کو اٹھانے سے انکار کرتے ہیں۔www۔alislam۔org