مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 82
مسلم نوجوانوں کے نامے 163 المومنین حضرت میمونہ کے ساتھ نکاح کیا۔چوتھے روز مشرکین کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا کہ تین روز ہو گئے اس لیے آپ مکہ سے چلے جائیں۔آپ نے فرمایا کہ اگر تم لوگ اجازت دو تو میں یہاں دعوت ولیمہ دوں اور مکہ والوں کو بھی کھلاؤں۔مگر انہوں نے کہا کہ ہمیں دعوت کی ضرورت نہیں۔آپ عہد کی پابندی کریں۔چنانچہ آپ نے فوراً کوچ کے اعلان کی منادی کرادی۔اور مکہ سے نکل کر وادی سرف میں قیام فرمایا۔-7- جنگ یمامہ میں جب مسیلمہ کذاب مارا گیا تو اسکے بقیہ السیف لوگوں میں سے کچھ تو قید ہو گئے اور کچھ فرار۔قلعہ و شہر یمامہ میں زیادہ تر عورتیں اور بچے ہی رہ گئے تھے۔لیکن حضرت خالد کو اس حقیقت کا علم نہ تھا۔قیدیوں میں سے ایک شخص مجاعہ بن مرارہ نے ان سے کہا کہ ابھی شہر میں بہت سے جنگجو سپاہی ہیں جن کے پاس رسد بھی کافی ہے۔اور وہ آپ کو کافی لمبے عرصے تک پریشان کر سکتے ہیں۔اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں اندر جا کر ان کو مصالحت پر آمادہ کروں۔حضرت خالد اس بات پر رضامند ہو گئے اور اسے جانے کی اجازت دے دی۔وہ شخص شہر میں گیا اور جا کر عورتوں اور بچوں کو مسلح کر کے فصیل پر کھڑا کر دیا۔تا کہ یہ ظاہر ہو کہ قلعہ میں زبردست فوج موجود ہے اور صلح کی شرائط میں مسلمان ہمارے ساتھ نرمی پر آمادہ ہو سکیں۔خیر صلح ہوگئی اور اہل شہر کو کچھ مراعات بھی حاصل ہو گئیں۔لیکن جب اسلامی لشکر قلعہ میں داخل ہوا تو مجاعہ کے فریب کا پتہ چلا۔حضرت خالد نے اس سے کہا کہ تو نے مجھے دھوکا کیوں دیا۔اس نے کہا کہ اگر میں ایسا نہ کرتا تو میری قوم تباہ ہو جاتی۔اگر چہ اسنے معاہدہ صلح میں دھوکا سے کام لیا تھا۔لیکن حضرت خالد بن ولید نے پھر بھی اس کی پابندی ضروری سمجھی اور کسی شق کی خلاف ورزی کا خیال تک بھی دل میں نہ لائے۔تھوڑی ہی دیر کے بعد حضرت ابوبکر امیرالمومنین کا حکم نامہ پہنچا کہ فتح کے بعد یمامہ کے بالغ مردوں کو قتل کر دیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا جائے۔لیکن چونکہ اس حکم کے پہنچنے سے قبل صلح نامہ مکمل ہو چکا تھا اس لیے اس کی تعمیل نہ کی جاسکی اور یہ واقعہ مسلمانوں کے ایفائے عہد کے واقعات میں خاص طور پر ممتاز ہے۔مسلم نوجوانوں کے کارنامـ 164 ایرانیوں کا ایک سردار ہرمزان نامی تھا۔ایرانی جب قادسیہ کے میدان میں شکست کھا کر بھاگے تو اس شخص نے خوزستان کے علاقہ میں اپنی ایک خود مختار حکومت قائم کرلی۔مسلمانوں نے اسے شکست دی تو اس نے اطاعت قبول کر لی لیکن پھر بغاوت کی۔مسلمانوں نے پھر اس کی سرکوبی کی لیکن اس کے بعد پھر اس نے جب دیکھا کہ شاہ فارس اپنی فوجیں جمع کر کے مسلمانوں کے ساتھ مقابلہ کے لیے آ رہا ہے تو اس کی مدد کے لیے آمادہ ہو گیا اور مسلمانوں کے ساتھ برسر پیکار ہوا۔بہت سی تگ ودو اورلڑائیوں کے بعد اس نے درخواست کی کہ میں پھر صلح کرتا ہوں۔لیکن شرط یہ ہے کہ مسلمان مجھے مدینہ میں اپنے خلیفہ کی خدمت میں بھیج دیں۔وہ جو فیصلہ میرے متعلق کریں گے مجھے بسر و چشم منظور ہوگا۔چنانچہ اسے مدینہ بھیجا گیا۔جب وہ فاروق اعظم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اس سے دریافت کیا کہ تم نے اتنی مرتبہ کیوں بد عہدی کی ہے۔ہرمزان نے کہا کہ مجھے پیاس لگی ہے چنانچہ پانی لایا گیا۔تو پیالہ پکڑ کر اس نے کہا کہ مجھے خوف ہے کہ آپ مجھے پانی پینے کی حالت میں ہی قتل کر دیں گے۔حضرت عمر نے فرمایا کہ نہیں اس کا کوئی فکر نہ کرو۔جب تک تم پانی نہ پی لو تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔یہ سنتے ہی اس نے پیالہ ہاتھ سے رکھ دیا اور کہا کہ میں پانی پیتا ہی نہیں۔اور اس وعدہ کے مطابق اب آپ مجھے قتل نہیں کر سکتے۔اب دیکھیں کہ یہ بھی کوئی وعدہ ہے۔عام رنگ میں ایک بات کی گئی جسے توڑ مروڑ کر اس سے فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔اور پھر یہ ایک ایسے شخص کی طرف سے ہے جو کئی بار بد عہدیاں کر چکا ہے۔اور عرصہ دراز تک پریشانی کا باعث بنارہا۔لیکن اس کے باوجود حضرت عمر نے فرمایا کہ گوتم نے میرے ساتھ دھوکا کیا مگر میں تم کو دھوکا نہ دوں گا اور تمہیں قتل نہ کراؤں گا۔حوالہ جات ۱ کتاب الخراج لقاضی ابو یوسف ص (31) ؟ ۲۔(فتوح البلدان ص 1398) ؟ ۳۔(ابوداؤد کتاب الجہاد ) ۴- مقریزی ج1 ص208) ؟ ( تاریخ اسلام مصنفہ اکبر شاہ خان ص 174) www۔alislam۔org