مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 79 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 79

158 مسلم نوجوانوں کے کارنامه 157 مسلم نوجوانوں کے نامے اپنا حصہ تمہارے حوالہ کر دوں۔سو یہ حاضر ہے لیکن ان کی بے نیازی ملاحظہ ہو کہ کہا مجھے اس کی ضرورت نہیں۔2۔حضرت ابی بن کعب کو ایک مرتبہ ایک تھیلی کہیں سے ملی۔جس میں سو اشرفیاں تھیں لیکن اسے اپنے پاس رکھ لینے کا خیال تک ان کے دل میں نہ گزرا۔اور اٹھا کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔آپ نے فرمایا کہ ایک سال تک مالک کی جستجو میں اعلان کرتے رہو۔انہوں نے ایسا ہی کیا۔لیکن ایک سال کے بعد پھر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر عرض کیا کہ مالک نہیں ملا۔آپ نے پھر ایسا ہی کرنے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ انہوں نے پھر ایک سال تک تلاش کیا۔مگر کوئی دعویدار نہ ملا۔تیسرے سال پھر حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا تو آپ نے فرمایا کہ اپنے پاس رکھو۔اگر مالک مل گیا تو خیر ور نہ خرچ کرلو۔-3 ایک مرتبہ حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی کو کسی کا تو شہ دان کہیں سے ملا۔جسے وہ حضرت عمرؓ کے پاس لے آئے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ایک سال تک اعلان کرو۔اگر مالک کا پتہ نہ چلے تو تمہارا ہے۔جب سال گزرنے پر بھی مالک نہ ملاتو آپ پھر حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے فرمایا کہ اب یہ تمہارا ہے۔مگر آپ نے کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں اور اس وجہ سے حضرت عمر نے اسے بیت المال میں داخل کر دیا۔-4 حضرت مقداد کسی باغ میں گئے تو دیکھا کہ ایک چوہابل سے اشرفیاں نکال کر باہر ڈال رہا ہے۔جو تعداد میں اٹھارہ تھیں۔آپ اٹھا کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں لائے۔آپ نے فرمایا کہ تم نے خود تو بل سے نہیں نکالیں۔بولے نہیں۔آپ نے فرمایا کہ پھر خدا تمہیں برکت دے۔۴ 5- حضرت زبیر کے پاس بوجہ ان کے امین ہونے کے لوگ اپنے مال امانت رکھ جاتے تھے۔لیکن اس خیال سے کہ کہیں ضائع نہ ہو جائے آپ اسے اپنے اوپر قرض قرار دے لیتے تھے۔متعدد صحابہ کا مال ان کے پاس امانت رہتا تھا اور وہ اس قدر دیانت داری سے کام لیتے تھے کہ ان لوگوں کے اہل و عیال کے لیے بھی بوقت ضرورت اپنی جیب سے خرچ کر دیتے تھے۔لیکن ان کی امانت نہیں چھیڑتے تھے۔6- ایک دفعہ ایک صحابی کی اونٹنی گم ہوگئی۔تو انہوں نے ایک دوسرے صحابی سے کہا کہ اگر کہیں مل جائے تو پکڑ لینا۔اتفاقاً انہیں اونٹنی مل گئی۔لیکن اس کا مالک کہیں چلا گیا۔انہوں نے اونٹنی کو بحفاظت تمام اپنے ہاں رکھا اور مالک کی تلاش کرتے رہے۔مگر اسے نہ ملنا تھا نہ ملا۔ایک روز اونٹنی سخت بیمار ہوگئی۔بیوی نے اسے ذبح کر ڈالنے کا مشورہ دیا۔گھر میں فاقہ کشی کی نوبت پہنچی ہوئی تھی۔لیکن آپ کی امانت نے اسے ذبح کرنا گوارا نہ کیا اور اونٹنی مر گئی۔7- ایک صحابی کے پاس کسی کی امانت محفوظ تھی۔لیکن مالک کہیں چلا گیا۔وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیا۔آپ نے فرمایا کہ جاؤ ایک سال تک تلاش کرو۔چنانچہ انہوں نے پوری کوشش کی لیکن وہ نہ ملا۔سال کے بعد پھر دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔کہ وہ نہیں ملا۔تو آپ نے فرمایا پھر تلاش کرو۔چنانچہ سال کے بعد پھر آکر کہا کہ وہ نہیں ملا۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اس قبیلہ کا جو آدمی پہلے ملے اس کے حوالے کر دو چنا نچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔حضرت عقیل بن ابی طالب جنگ حنین کے بعد واپس آئے تو بیوی نے پوچھا کہ مال غنیمت میں کچھ لائے ہو یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک سوئی کپڑے سینے کے لیے ہے۔یہ کہہ کر سوئی بیوی کے حوالہ کر دی۔اتنے میں منادی کرنے والے کی آواز آئی کہ جو کچھ مال غنیمت میں سے کسی کے پاس ہے وہ جمع کرا دے۔چنانچہ آپ نے فوراً سوئی بیوی سے لے لی اور جا کر جمع کرا دی۔و فتح خیبر کے بعد آنحضرت ﷺ نے وہاں کی زمینیں مقامی مزارعین کو بٹائی پر دے دی تھیں۔جب فصل پک کر تیار ہوئی تو آپ نے ایک صحابی حضرت عبداللہ بن رواحہ کو پیدا وار کا حصہ www۔alislam۔org