مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 78 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 78

مسلم نوجوانوں کے رنامے 155 مسلم نوجوانوں کے سند کارنامے 156 4 حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص مسلمانوں کی خانہ جنگی کے زمانہ میں حضرت علی کے خلاف کوئی حصہ نہ لینا چاہتے تھے۔تاہم جب ان کے والد نے اصرار کیا تو بادل نخواستہ شریک ہو گئے۔۴ 5- ایک صحابی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔یا رسول اللہ میرے پاس دولت ہے اور میرا باپ محتاج ہے۔کیا میں اسے دے دوں۔آپ نے فرمایا تم اور تمہاری دولت دونوں تمہارے باپ کے لیے ہو۔6- ایک اور صحابی نے اپنا باغ اپنی ماں کے نام پر وقف کر دیا۔7- حضرت عبداللہ بن ابی بکر کو اپنی بیوی سے حد درجہ محبت تھی۔اس محبت نے ایک دفعہ انہیں جہاد میں شامل نہ ہونے دیا۔حضرت ابی بکر نے یہ دیکھ کر بیوی دین کے رستہ میں ایک رکاوٹ ثابت ہوئی ہے انہیں حکم دیا کہ اسے طلاق دے دیں۔اس حکم کی تعمیل ان پر سخت گراں تھی۔تاہم باپ کے حکم کا وہ انکار نہ کر سکے۔اور طلاق دے دی۔لیکن نہایت درد انگیز اشعار کہے۔جن کا حضرت ابی بکر" پر اس قدر اثر ہوا کہ انہوں نے رجوع کی اجازت دے دی۔- حضرت حارثہ بن سراقہ کے متعلق مصنف اسرا انعابہ کا بیان ہے کہ کان عظیم البر بامه یعنی اپنی ماں کے ساتھ نہایت نیکی کا برتاؤ کرتے تھے۔ا۔( ابن سعد زکر اسامہ بن زید) ۳- (مسلم کتاب النور ) ۵۔(ابوداؤد کتاب المناقب) حوالہ جات ۲- (مسلم کتاب المناقب) ۴۔(اسد الغابہ ج 3 ص 245) ۶۔(ابوداؤد کتاب المناقب) ے۔(اسد الغابہ ذکر عاتکہ بن زید) ۸۔(سیر انصار ج 1 ص 302) دیانت اور امانت ہے۔دیانت اور امانت انسانی اخلاق کی بہت بڑی نیکیوں میں سے ایک نیکی آنحضرت ﷺ کی زندگی کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ بعث سے قبل امانت آپ کا طرہ امتیاز تھا حتی کہ اپنے ہم وطنوں میں آپ الامین کے لقب سے پکارے جاتے تھے اور عرب میں آپ کی ذات ہی الصادق اور الامین کی مشار الیہ سمجھی جاتی تھی۔آپ کی یہ خوبی ایسی تھی کہ غیر مسلموں پر بھی اس کا خاص اثر ہے۔چنانچہ مسز اپنی بیسنٹ جو ہندوستان میں تھیوسافیکل کی پیشوا اور بڑی مشہور یورپین لیڈی ہیں مھتی ہیں۔پیغمبر اعظم اللہ کی جس بات نے میرے دل میں ان کی عظمت و بزرگی قائم کی ہے وہ ان کی وہ صفت ہے جس نے ان کے ہم وطنوں سے الامین کا خطاب دلوایا۔کوئی صفت اس سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی۔اور کوئی بات اس سے زیادہ مسلم اور غیر مسلم دونوں کے لیے قابل اتباع نہیں۔ایک ذات جو مجسم صدق ہو اس کے اشرف ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے۔ایسا ہی شخص اس قابل ہے کہ پیغام حق کا حامل ہو۔آنحضرت ﷺ کے فیض صحبت نے جہاں صحابہ کرام میں اور بے شمار خوبیاں پیدا کر دی تھیں وہاں دیانت و امانت میں بھی ان لوگوں کا پایہ بہت بلند کر دیا تھا۔چنانچہ سخت ابتلا کے مواقع پر بھی انکے پائے دیانت نے کبھی لغزش نہیں کھائی۔چند واقعات بطور نمونہ ملاحظہ ہوں۔1- ایک مرتبہ رومیوں کے ساتھ جنگ میں ایک نوجوان مجاہد کو ایک گھڑ املا۔جو کہ اشرفیوں سے پر تھا۔وہ اگر چاہتے تو اسے اپنے لیے رکھ سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا۔بلکہ اسے اٹھا کر سالار جیش کی خدمت میں لے آئے۔جنہوں نے اسے مسلمانوں میں بحصہ رسدی بانٹ دیا لیکن اس دیانت داری کا ان پر ایسا اثر تھا کہ کہا اگر اسلام کا یہ حکم نہ ہوتا کہ شمس سے پہلے کسی کو عطیہ نہیں دیا جا سکتا تو میں یہ اشرفیاں تمہیں دے دیتا۔لیکن اب صرف یہ کرسکتا ہوں کہ www۔alislam۔org