مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 70
140 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 139 مسلم نوجوانوں کے نامے فرمائی ہے آپ عمدہ غذا اور اچھے کپڑے استعمال کیا کریں۔تو آپ نے جوابدیا کہ خدا کی قسم میں تو اپنے آقا کے نقش قدم پر ہی چلوں گا۔خواہ کتنی خوش حالی کیوں نہ نصیب ہو اور اس کے بعد دیر تک آنحضرت ﷺ کی سادگی اور عسرت کا تذکرہ کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت حفصہ بے قرار ہوکر رونے لگیں۔11- ایک مرتبہ حضرت عمر یزید بن ابی سفیان کے ساتھ کھانے پر بیٹھے ، دستر خوان پر عمدہ کھانے لائے گئے تو آپ نے کھانے سے انکار کر دیا۔اور فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر تم اسوہ رسول اللہ ﷺ کو ترک کرو گے تو صراط مستقیم سے دور جاپڑو گے۔12 - حضرت عمر با وجود یہ کہ شہنشاہ کی حیثیت رکھتے تھے پھر بھی ضرورت سے زیادہ کپڑے نہیں بنواتے تھے۔ایک دفعہ آپ دیر تک گھر سے باہر نہ آئے اور لوگ انتظار کرتے رہے۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ کپڑے میلے ہو گئے تھے اس لیے ان کو دھو کر سو کھنے کا انتظار کر رہے تھے۔ایک دفعہ ایک شخص نے آپ سے کہا کہ آپ کی غذا اتنی سادہ اور معمولی ہوتی ہے کہ ہمارے لیے اسکا کھانا دشوار ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اعلیٰ درجہ کی غذا کھانے کی طاقت نہیں رکھتا۔یہ میچ نہیں۔خدا تعالیٰ کی قسم ہے اگر مجھے قیامت کا خوف نہ ہوتا تو میں بھی نہایت اعلیٰ درجہ کی غذائیں کھا سکتا تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سادگی عدم مقدرت کی بناء پر نہ تھی بلکہ اکا برصحابہ اسے اسلامی تعلیم کا جزو سمجھتے تھے۔13- ایک مرتبہ حضرت عمر نے بعض صحابہ کو عراق کی ایک مہم پر روانہ فرمایا۔وہ وہاں سے کامیاب و کامران واپس آئے تو زرق برق لباس میں ملبوس تھے۔حضرت عمرؓ نے ان کو دیکھا تو منہ پھیر لیا۔اور بات تک نہ کی۔وہ اس برہمی کی وجہ سمجھ گئے۔وہاں سے اٹھ کر گھروں کو گئے اور سادہ لباس پہن کر واپس آئے۔تو آپ ان کے ساتھ نہایت خندہ پیشانی سے ملے اور ہرا ایک سے بغلگیر ہوئے۔جو ثبوت ہے اس بات کا کہ حضرت عمر سادہ لباس کو تعلیم اسلام کے ماتحت ضروری سمجھتے تھے۔اور سادگی تنگ دستی کے نتیجہ میں نہ تھی۔14 - حضرت عثمان امرائے عرب میں سے تھے اور اگر چاہتے تو امیرا نہ ٹھاٹھ رکھ سکتے تھے۔لیکن آپ نے کبھی زیب وزینت کی چیز میں استعمال نہیں کیں۔حتی کہ اس زمانہ میں عرب کے متوسط طبقہ کے لوگ جو کپڑے استعمال کرتے تھے اس سے بھی آپ پر ہیز کرتے تھے۔15- آنحضرت ﷺ کے جگر گوشہ حضرت فاطمۃ الزہرا کی شادی حضرت علیؓ کے ساتھ ہوئی۔تو جہیز میں ایک پلنگ، ایک بستر ، ایک چادر، دو چکیاں اور ایک مشکیزہ دیا گیا۔اور آپ کی دعوت ولیمہ میں صرف کھجور ، جو کی روٹی، پنیر اور شور بہا تھا۔اس پر بھی حضرت اسماء کا بیان ہے کہ اس زمانہ میں اس سے زیادہ پر تکلف ولیمہ نہیں ہوا۔آج مسلمانوں کی ابتر حالت دیکھ کر ہر دردمند کا دل خون ہو جاتا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ اس کے علاج تک عوام کی نظر تو جاتی نہیں اور لیڈروں کو اس کی طرف کوئی توجہ نہیں۔فی زمانہ مسلمانوں کے مصائب کی وجوہ میں سے ایک بڑی وجہ ان کی کام سے نفرت اور پر تکلف زندگی کی عادت ہے۔مسلمانوں میں بریکاری بہت زیادہ ہے۔نوجوان بالخصوص کام سے متنفر ہیں۔اور جو کام انکے خودساختہ معیار کے مطابق نہ ہوا سے اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں۔اور اس کے ساتھ اپنے آپ کو ایسے تکلفات اور بے جا اسراف کا عادی بنا رکھا ہے کہ جس میں اخراجات بہت زیادہ ہیں۔اور ظاہر ہے کہ جب انسان ایسی مشکلات میں مبتلا ہو تو دین کی راہ میں قربانی بھی مشکل ہوتی ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تمدن اور سادہ زندگی کا نقشہ متذکرۃ الصدر مثالوں سے بالکل واضح اور نمایاں صورت میں ہمارے سامنے آجاتا ہے۔عسرت کی حالت کو نظر انداز کر دیں پھر بھی آپ دیکھیں گے کہ وہ لوگ بالکل سادہ تھے۔حتی کہ جب اموال بکثرت آنے شروع ہوئے اس وقت www۔alislam۔org