مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 14
28 مسلم نوجوانوں کے 27 مسلم نوجوانوں کے کارنامے کی اپنی اولادوں سے محبت ہم سے کسی طرح کم نہ تھی۔وہ بھی ہماری طرح انسان تھے۔ان کے پہلو میں بھی دل تھے۔جو ہم سے زیادہ پدری شفقت سے لبریز تھے۔مگر جوش ایمان اور خدمت اسلام ان کے نزدیک دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب تھی۔۔حضرت ابوسعید خدری کی عمر غزوہ خندق کے وقت صرف پندرہ سال تھی مگر شریک جنگ ہوئے اور بڑھ بڑھ کر داد شجاعت دی۔اسی طرح غزوہ بنی مصطلق میں بھی کم سنی کے باوجود شریک ہوئے۔حضرت براء بن عازب غزوہ بدر کے وقت بہت کم سن تھے۔مگر جوش ایمان پورے جوش پر تھا۔اس لیے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے مگر آپ نے شرکت کی اجازت نہ دی۔10 - حضرت رافع بن خدیج کی عمر غزوہ بدر کے وقت صرف چودہ سال کی تھی مگر شوق جہاد کا یہ عالم تھا کہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش ہو کر شریک جنگ ہونے کی اجازت طلب کی۔مگر آپ نے کمسنی کی وجہ سے واپس کر دیا۔اگلے سال اجازت ملی لیکن ایک اور نوعمر لڑکے سمرہ بن جذب کو آنحضرت ﷺ نے کم سنی کی وجہ سے اجازت نہ دی۔تو اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے رافع کو اجازت دے دی ہے حالانکہ میں کشتی میں اس کو گرا لیتا ہوں۔آنحضرت ﷺ کو اس بات کا بہت لطف آیا اور فرمایا کہ اچھا سمرہ سے کشتی کرو۔چنانچہ دونوں میں کشتی ہوئی اور آپ نے حضرت رافع کو پچھاڑ دیا۔اس پر آنحضرت ﷺ نے اجازت دے دی۔11- آنحضرت ﷺ جب غزوہ بدر کے لیے نکلے تو کئی کم عمر بچے بھی شوق جہاد میں ساتھ ہوئے۔جن میں حضرت سعد بن ابی وقاص کے چھوٹے بھائی بھی تھے۔آنحضرت میا اللہ نے مدینہ سے تھوڑی دور باہر آ کر فوج کا جائزہ لیا تو بچوں کو واپسی کا حکم دیا۔حضرت عمیر نے یہ حکم سناتو لشکر میں ادھر ادھر چھپ گئے لیکن آنحضرت ﷺ کو اس کی اطلاع ہوگئی۔اور آپ نے واپسی کا ارشاد فرمایا۔جسے سن کر آپ رو پڑے۔اس شوق اور تڑپ کو دیکھتے ہوئے آخر آپ نے اجازت دے دی۔ذرا غور فرمائیے کہ انسان کو اپنی جان کس قدر عزیز ہوتی ہے لیکن صحابہ کرام اس طرح ایسے مواقع پر میدان میں نکلنے کی کوشش کرتے تھے جن میں جان جانے کا بہت زیادہ امکان ہوتا تھا۔اور زندہ سلامت واپس گھر پہنچنے کی امید بالکل موہوم ہوتی۔ہمارے زمانہ میں باوجود یہ کہ جانی خطرات بہت کم ہیں اور تبلیغ کے لیے نکلنے والوں کا تھوڑے سے عرصہ کے بعد زندہ سلامت گھر آجانے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔تاہم بعض لوگ اس سے جی چراتے ہیں اور بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور پھر اسلام کی کس مپرسی کا بھی رونا روتے رہتے ہیں۔اور یہ نہیں دیکھتے کہ جس راہ پر چل کر صحابہ کرام نے عزت حاصل کی اور اسلام کاعلم بلند کیا اسے اختیار کیے بغیر وہ کامیابی کی امید کس طرح رکھ سکتے ہیں۔12 - حضرت عبدالرحمن بن عوف سے احادیث میں ایک ایسا واقعہ بیان ہے جسے پڑھ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور مجاہدین اسلام کی جان بازی پر جرات و بسالت بھی آفرین کہتی ہے۔آپ روایت کرتے ہیں کہ جب جنگ بدر میں صفیں آراستہ ہوئیں اور حملہ عام ہونے لگا تو میں نے اپنے دائیں بائیں نظر ماری تو دونوں جانب انصار کے دو جوان لڑکے پائے۔ان کو دیکھ کر مجھ پر افسردگی سی طاری ہوگئی میں نے خیال کیا کہ جنگ میں دونوں پہلو جب تک مضبوط نہ ہوں لڑائی کرنا مشکل ہوتا ہے۔اور وہی شخص اچھی طرح لڑ سکتا ہے جس کے پہلو مضبوط ہوں اور جب میرے دونوں پہلو اس قدر کمزور ہیں کہ دو کم سن اور نو عمر بچے کھڑے ہیں تو میرے لیے کوئی قابل ذکر لڑائی کرنے کا کیا امکان ہوسکتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں ابھی یہ خیال کر ہی رہا تھا کہ ان میں سے ایک لڑکے نے مجھے آہستہ سے ایسے انداز میں کہ وہ دوسرے لڑکے سے اختفاء رکھنا چاہتا ہے پوچھا کہ چا وہ ابو جہل کون ہیں جو مکہ میں آنحضرت ﷺ کو بہت تکالیف پہنچایا کرتے تھے۔میں نے اللہ www۔alislam۔org