مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 13 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 13

26 مسلم نوجوانوں کے 25 مسلم نوجوانوں کے نامے فوج کشی ہوئی تو محل کے معرکہ میں شامل تھے اور نہایت بے جگری سے لڑتے ہوئے دشمنوں کی صفوں میں گھس جاتے تھے۔سرسینہ اور تمام جسم زخموں سے چھلنی ہو چکا تھا۔لوگوں نے از راہ ہمدردی کہا کہ اس طرح اپنے آپ کو ہلاکت کے منہ میں نہ ڈالیں تو جواب دیا کہ لات و عزیٰ کے لیے تو جان پر کھیلا کرتا تھا اور آج خدا اور رسول کے لیے لڑنے کا وقت آیا ہے تو کیا جان کو عزیز رکھوں۔خدا کی قسم ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا۔3 معرکہ یرموک میں حضرت خالد بن ولید نے حضرت عکرمہ کو ایک دستہ کا افسر مقرر کیا۔دشمن بہت زبردست تھا اور اس نے ایسا حملہ کیا کہ مجاہدین اسلام کے قدم ڈگمگا گئے۔حضرت عکرمہ نے یہ حالت دیکھی تو بہ آواز بلند پکارا کہ کون موت پر بیعت کرتا ہے۔فوراً چارسو جان بازسامنے آموجود ہوئے اور خدا کی راہ میں جانیں لڑا دینے کا عزم کر کے دشمن پر ٹوٹ پڑے اور اپنے اس عہد کو ایسی دیانت داری سے نبھایا کہ اکثر نے شہادت پائی۔اور جو باقی بچے وہ بھی زخموں سے چور چور تھے۔-4- حضرت واثلہ بن اسقع ایک نوجوان صحابی تھے۔جو 9 ھ میں اسلام لائے چند ہی روز بعد غزوہ تبوک کی تیاری شروع ہوئی۔اور مجاہدین سر سے کفن باندھ باندھ کر میدان کی طرف روانہ ہو گئے لیکن اس نو مسلم کے پاس سواری نہ تھی۔بہت کوشش کی مگر کوئی صورت نہ بن سکی۔ادھر شوق جہاد نے بے تاب کر رکھا تھا۔مدینہ کی گلیوں میں دیوانہ وارصدائیں لگانے لگے کہ کون شخص مجھے مال غنیمت کے عوض تبوک پہنچانے کا ذمہ لیتا ہے۔اتفاق سے ایک انصاری بزرگ ابھی روانہ نہ ہوئے تھے۔انہوں نے حامی بھری اور کہا کہ میں لے چلوں گا۔کھانا بھی دوں گا اور سواری بھی۔اس طرح آپ میدان جنگ میں پہنچے اور جہاد میں شامل ہوئے۔5- حضرت ابو مجن ثقفی بہت آخر زمانہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔اس لیے ان کا ذکر عہد فاروقی میں ہی نظر آتا ہے۔جس زمانہ میں ایران پر مسلمانوں نے فوج کشی کی یہ کسی وجہ سے قید تھے۔لیکن جہاد کے شوق نے اس قدر بے تاب کر دیا کہ قید سے فرار ہوکر میدان جنگ میں جا پہنچے۔حضرت عمر و اطلاع ہوئی تو آپ نے سپہ سالار لشکر اسلام حضرت سعد بن ابی وقاص کو لکھا کہ انہیں گرفتار کر کے قید کر دیا جائے۔چنانچہ وہیں قید کر دیئے گئے۔جب جنگ قادسیہ لڑی جارہی تھی یہ اس وقت پابند سلاسل تھے۔لیکن میدان جنگ کے واقعات سن کر رگوں میں خون جوش مار ہا تھا۔حضرت سعد کی بیوی حضرت سلمی سے کہا کہ مجھے آزاد کر دو کہ میدان میں جا کر داد شجاعت دوں۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر زندہ بچ گیا تو خود بخود آکر بیٹریاں پہن لوں گا۔انہوں نے انکار کیا تو ایسے دردانگیز اشعار پڑھنے لگے کہ حضرت سلمیٰ کا دل بھر آیا۔اور انہوں نے آزاد کر دیا۔چنانچہ میدان جنگ میں جا پہنچے۔اور ایسی شجاعت سے لڑے کہ جس طرف نکل جاتے دشمنوں کی صفیں الٹ دیتے۔صحابہ کرام آپ کی شجاعت کو دیکھ کر عش عش کر رہے تھے۔6۔غزوہ بدر کے وقت حضرت انسؓ کی عمر صرف بارہ برس تھی مگر میدان جنگ میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ پہنچے۔اور آپ کی خدمت بجالاتے ہوئے غزوہ احد کے وقت آپ کی عمر تیرہ سال تھی۔لیکن اس میں بھی شریک ہوئے۔7 حضرت ابو سعید خدری کی عمر غزوہ احد کے وقت صرف تیرہ سال تھی مگر لڑائی میں شامل ہونے کے لیے آنحضرت ﷺ کی خدمت اقدس میں پیش ہوئے۔آپ نے سر سے پاؤں تک دیکھا اور فرمایا کہ بہت کم سن ہیں لیکن باپ نے ہاتھ پکڑ کر آنحضرت ﷺ کو دکھایا کہ پورے مرد کا ہاتھ ہے۔تاہم آپ نے اجازت نہ دی لیکن اس سے یہ بات واضح ہے کہ صحابہ کرام دینی خدمات کو اس قد رضروری اور قابل فخر سمجھتے تھے کہ اپنے بچوں کو اس کا موقعہ دلانے کے لیے نہایت حریص رہتے تھے۔اور ان کو آگے کرتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح یہ سعادت حاصل ہو جائے۔ہمارے زمانہ میں جو لوگ نہ صرف خود پیچھے ہٹتے بلکہ اپنی اولاد کو بھی اپنے گھروں میں چھپا کر رکھنا چاہتے ہیں۔انہیں سوچنا چاہیے کہ ان لوگوں www۔alislam۔org