پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت

by Other Authors

Page 4 of 49

پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 4

پُر کیف عالم تصور کا مشاعر و جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار XXXXXXX ہے جس کی بزم آرائی میرے نیرنگ خیال نے کی ہے اور اس در بار ادب کو تصوراتی طور پر سجایا ہے۔مقام مشاعرہ قلعہء ہند“۔عالم تحیل کا یہ مشاعرہ قلعہ ہند میں ہوا جہاں امام الزماں مہدی دوراں کے الہام کے مطابق رسول اللہ پناہ گزین ہوئے۔مشاعرہ اُس سدا بہار گلستان میں ہوا جو بے شمار پھلوں اور پھولوں سے لدا ہوا ہے اور دبستان محمد سے موسوم ہے اور بادشاہ خلافت کی مقدس را بگزر ہونے کے باعث ظاہری آنکھ سے کہکشاں دکھلائی دیتا ہے۔مشاعرہ میں تا جداران سخن کا وہ مقدس گروہ شامل ہوا جو اصحاب احمد تھے اور جن کو خود حضرت مسیح موعود نے یہ سرٹیفکیٹ عطا فرمائے۔ا۔میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ۔۔۔ایک ایک فردان میں بجائے ایک ایک نشان کے ہیں۔۲۔ان کی نیکی اور صلاحیت میں ترقی بھی ایک معجزہ ہے“۔(حقیقۃ الوحی صفحه ۲۳۸) ( الذكر الحکیم نمبر صفحہ ۱۶۔۱۷)۔وہ اسلام کا جگر اور دل ہیں“۔(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ ۳۱) ۴۔اُن کے دل صدق و عرفاں سے لبریز اور خدا کی رضا جوئی سے معمور ہیں“۔( ترجمہ حمامة البشرکی طبع اوّل) بھلا چودہویں صدی کے بعد آنے والے نبی کا مبارک چہرہ دیکھنے والے ان خوش نصیبوں سے بڑھ کر اور کون ہے جو افق احمدیت پر ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء سے جلوہ افروز خلافت کے چاند کی ضیاء پاشیوں کے انوار و برکات کا اندازہ کر سکے؟؟ بالخصوص اس لئے کہ وصالِ مسیح موعود کا قیامت خیز منظر اور لاہور برانڈ رتھ روڈ پر دشمنانِ احمدیت کا شور محشر اور فرضی