پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت

by Other Authors

Page 3 of 49

پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 3

پُر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار 3 پُر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب صیح الزماں کے عاشقانہ اشعار رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے رب العالمین خدا کی ربوبیت بیشمار جہانوں پر محیط ہے جن میں عالم تخیل و تصو ر بھی ہے جو حسب استعداد باطنی طور پر ہر دل اور دماغ کو عطا کیا جاتا ہے اور جس کا نادر اور یگانہ روزگار شاہکار حضرت سیدنا محمود مصلح موعود کی پُر معارف تقاریر کا شہر ہ عالم مرقع ”سیر روحانی‘ ہے جو القائے خاص یا وحی خفی کی برکت سے آپ کی زبان مبارک پر جاری ہوا۔ایک اعتبار سے استعارہ تشبیہ، کنامی اور واردات قلی کو بھی عالم تخیل کی شاخیں سمجھنا چاہیے جن کی ان گنت مثالیں سلطان العلم مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام کے پر معارف کلام نظم و نثر میں موجود ہیں مثلا اگر ہر بال ہو جائے سخن ور تو پھر بھی شکر ہے امکاں سے باہر دل میں مرے یہی ہے تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے باغ مرجھایا ہوا تھا گر گئے تھے سب شجر میں خدا کا فضل لایا پھر ہوئے پیدا ثمار سو عرض ہے کہ مشاعرہ صد سالہ جشن خلافت کی تمثیلی روداد بھی طلسم خیال ہی کا کرشمہ