پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 39
پُر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار جمله خوبان جہاں را کرده زیر 39 زیر قدم مژده بادت اے شہ خوباں والے ترک کس قدر روشن مستقبل ترا آل حام ہے ہے چمک تیرے مقدر کی ثریا سے سوا مل گئی تجھ کو رہائی ظالموں کی قوم کی قدر تجھ ہوا پر ہے مہرباں تیرا خدا عرش سے دیکھا جو اُس نے تیرے دل کا اضطراب تجھ کو آزادی کی نعمت سے شناسا کردیا یوں کہو اس سے بھی بڑھ کر ہوا فضل الہی یہ کہ دولت ایماں سے تیرا دامن دل بھر دیا وقت کے دامن سے وابستہ ہوئی تيرا قدم اوج فلک پر جا پڑا بخت پر نازاں ہو اپنے آج تُو اپنے آج تو قوم بلال پی رہی ہے سرمدی چشمے سے تو آر بقا ہے مقدر احمدیت کی ترقی بالیقیں تیرا حصہ بھی خدا نے اس میں وافر رکھ دیا - ہو مبارک۔صد مبارک تجھ کو اے قوم بلال چودھویں کا چاند بن جانے کو ہے تیرا ہلال (الفرقان مئی ۱۹۷۲ء صفحه ۳۱)