مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 60
(1+) سے پالی کے گستاخانہ رویہ پر اظہار افسوس کیا تو سلام نے جوابا کہا کہ اس کا احساس ہمدردی پالی کے لئے زیادہ ہے نہ کہ اپنی ذات کیلئے۔افسوس کہ پالی نے (فزکس میں ) ایک نئی تحقیق کو جاننے کا سنہری موقعہ ہاتھ سے گنوا دیا تھا۔وطن عزیز کیلئے تڑپ سلام جب زیورخ آیا تو وہ اس وقت اس مخمصے میں مبتلا تھا کہ وہ پاکستان واپس جائے یا نہیں؟ اس کی تعلیم برطانیہ میں قریب قریب پایہ تکمیل کو پہنچ چکی تھی اگر وہ برطانیہ یا امریکہ میں رہائش اختیار کر نیکا فیصلہ کرتا تو اس کیلئے شاندار ریسرچ کیر ئیر اس کا بے تابی سے منتظر تھا ان دنوں وہ اپنی ذہانت کی استعدادوں میں گویا پہاڑ کی چوٹی پر تھاوہ اپنے دور اور نسل کے ابھرتے ہوئے فرسٹ میں سے منفرد جو ہر تھا مگر اسکا ضمیر اسے یہاں رہائش اختیار کرنے پر ملامت کر رہا تھا۔اس نے اپنا یہ اخلاقی فرض جانا کہ وہ اپنے وطن واپس جائے تا وہ جو کچھ بھی کر سکتا ہے وہ اپنے وطن عزیز کے عوام کیلئے کرے۔پاکستان اگر چہ غریب ملک تھا مگر اس ملک نے اسکی تعلیم اور رہائش کے بر طانیہ میں اخراجات برداشت کئے تھے۔اب اسکی باری تھی کہ وہ اس قرض کو چکائے۔اس نے اس مخمصہ پر مجھ سے مشورہ کیا میں نے اسے پر زور مشورہ دیا کہ وہ امریکہ چلا جائے تا پہلے پانچ سال تو وہ ریسرچ میں غوطہ زن ہو جائے۔پھر اس کے بعد وہ اپنے عوام کی بے شک خدمت کر لے۔اس نے میرا شکر یہ ادا کیا اور جوابا کہا کہ میں اپنے وطن لوٹ رہا ہوں۔فزکس میرا انتظار کر سکتی ہے مگر پاکستان کے عوام نہیں۔سلام ۱۹۵۱ء میں لاہور چلا گیا اور اس نے وہاں تین سال قیام کیا۔یہ عرصہ اس کے لئے سخت مایوسی کا دور تھا لا ہور کے اکیڈیمک جگادریوں کو اس بات سے کوئی غرض نہ تھی کہ وہ لندن سے آئے ۲۵ سالہ عبقری کی خدمات سے مستفید ہوں۔سلام کو امید تھی کہ وہ پاکستان کی نوجوان نسل میں سائینس میں ریسرچ کی روح پھونک سکے گا تا وہ سائینس کی تعلیم حاصل کر کے اپنے معاشرہ کو ماڈرن بنا ئیں نیز یہ کہ وہ کسی طریق سے پاکستان میں سائنسی ترقی کی نئی لہر دوڑا سکے گا۔مگر اکیڈیمیک گروؤں نے اسے ایسا کوئی کام سر انجام دینے کا موقعہ فراہم نہ ہونے دیا۔وہ صرف یہ کر سکتا تھا کہ ریاضی اور فزکس کا سبق