مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 321
(۳۲۱) rubbish یہ بلکل بے ہودہ مفروضہ ہے۔اس بات کو سائینس میں دیکھا اور پرکھا ہی نہیں جاتا، دیکھیں موت کے موضوع پر سائینس میں کوئی بحث نہیں ہوتی۔انسان کیوں پیدا ہوا اور کیوں مرتا ہے؟ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سائینس اس مسئلہ کو تو فارمولیٹ بھی نہیں کر سکتی۔قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ کتاب ان لوگوں کیلئے ہے جو غیب پر یقین رکھتے ہیں۔غیب کا مطلب یہ ہے کہ وہ اشیاء جن کا انسان سوچ اور گمان بھی نہیں کر سکتا۔لہذا آپ سائینس کے ذریعہ کسی کا مذہب تبدیل نہیں کر سکتے ، نہ ہی غیر مذہبی کو مذہبی بنا سکتے ہیں۔سائینس تو صرف آپ کو بعض گائیڈ لائنیز دیتی ہے۔سعادت انور صدیقی (صدر، پاکستان فزیکل سوسائٹی لاہور ) نے بیان کیا: ۱۹۸۷ء میں آئی سی ٹی پی میں پہلی بار گیا تھا اور ایک تقریب میں ان سے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ترقی پذیر ملکوں کے سینکڑوں سائینسدان ایک لمبی قطار میں تسبیح کے دانوں کی طرح پروئے ہوئے کھڑے تھے اور پروفیسر سلام سے ہاتھ ملانے اور ان کی نصیحت یا سرزنش کے دو بول سننے کی خوشی حاصل کرنے کیلئے آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے۔ان سے ملاقات اس طرح ہو رہی تھی جیسے وہ اپنے ہاتھوں سے ان دانوں کو آگے ترقی کی جانب بڑھا رہے ہوں۔میری باری آئی تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں میرا ہاتھ لے کر اپنی روشن آنکھوں سے جو پیغام مجھے دیا وہ یہ تھا: اپنی پوری قوم کی تقدیر بدلنا تمہارا بنیادی فرض ہے اور یہ کام سائینس کو پروان چڑھا کر ہی ہو سکتا ہے۔اس موقعہ سے بھر پور فائدہ اٹھاؤ اور دوسروں کو بھی اپنے سفر میں شامل کر لو۔ڈاکٹر سلام نے دو نوبل انعام یافتگان کا تعارف یوں کرایا: صدیوں پہلے ایران کے بادشاہ کے ہاں کسی پڑوسی سلطنت کا بادشاہ مدعو تھا دونوں بادشاہ دربار میں تشریف فرما تھے۔اور ساتھ میں ایران کے بادشاہ کا وزیر اعظم بھی۔مشروبات پیش کی جاتی ہیں وزیر کے لئے اب مسئلہ یہ ہے کہ مشروب پہلے اپنے بادشاہ کو پیش کرے یا مہمان بادشاہ کو۔دونوں صورتوں میں