مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 309
(۳۰۹) گورنر پنجاب نے اعشائیہ کا اہتمام کیا ، اس موقعہ پر گورنر پنجاب سوار خاں نے پوچھا کہ اب آپ کا آئیڈیل کون ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے جوابدیا۔سرظفراللہ خاں۔اس پر گورنر خاموش ہو گئے۔ڈاکٹر صاحب کو قرآن مجید سے عشق تھا۔جب بھی سفر کرتے تو کوٹ کی جیب میں قرآن پاک ہوتا تھا۔اپنی تقاریر میں وہ درج ذیل آیات کے حوالے دیا کرتے تھے: سورۃ الجاثیہ آئت نمبر ۱۴۔سورۃ الملک آئت نمبر ایک تا پانچ۔سورۃ العلق آئت نمبر ۱۳۔سورۃ یسین آئت نمبر ۸۲ تا ۸۴۔سورة الرعد آئت نمبر ۱۲۔سورۃ بنی اسرائیل آئت ۲۴ تا ۲۵۔سورۃ البقرۃ آئت نمبر ۳ اور ۲۵۶۔۱۹۷۹ء میں جب آپ نوبل انعام وصول کرنے کیلئے سویڈن گئے تو آپ نے کنگ آف سویڈن کے سامنے فزکس کا انعام حاصل کر نیوالوں کی طرف سے بین کو سیٹ ایڈریس پیش کیا، اس موقعہ پر آپ نے درج ذیل آیہ کریمہ تلاوت فرمائی: ما ترى في خلق الرحمن من تفاوت۔۔۔۔الخ۔یہ پہلا موقعہ تھا کہ سٹاک ہالم کے اس بلینکویٹ ہال میں قرآن پاک کی تلاوت کی گئی۔آپ کا یہ بھی دستور تھا کہ والدین کی طرف سے قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے تا ان کی روح کو ثواب پہنچے۔اٹلی میں قیام کے دوران جو مسلم طلباء وہاں تعلیم کیلئے آتے تھے۔آپ جمعہ کے روز با جماعت صلوۃ کا انتظام فرماتے نیز امامت کے فرائض انجام دیتے تھے۔۱۹۴۷ء میں جب آپ لندن میں اکیس سال کے نوجوان طالب علم تھے تو آپ مسجد فضل لندن میں اعتکاف بھی بیٹھے تھے۔ڈاکٹر طاہرہ ارشد ( یو نیورسٹی آف ٹینی سی ، امریکہ ) نے بیان کیا: میں اپنے شوہر کے ہمراہ ، جو پارٹیکل فزے سمسٹ ہیں۔قریب میں سال تک آند سد تو ہو وزٹ کیلئے جاتی رہی۔ڈاکٹر سلام کو اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ سائینسدانوں کو تھیورنیکل فزکس کی بجائے اپلائیڈ ریسرچ فیلڈز میں بھی جانا چاہئے۔اس ضمن میں انہوں نے کئی ایک سائینسدانوں کو مشورہ دیا اور وہ دوسری فیلڈز میں چلے گئے۔