مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 308 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 308

(۳۰۸) انیس سو ساٹھ کی دہائی کے شروع میں جب ڈاکٹر عبدالسلام ایک بین الاقوامی مرکز برائے نظری طبیعات بنانے کے پراجیکٹ پر کام کر رہے تھے۔تو ان کی شدید خواہش تھی کہ یہ مرکز پاکستان میں قائم ہو اس ضمن میں انہوں نے ۱۹۶۳ء میں صدر پاکستان محمد ایوب خان سے کراچی میں ملاقات کی اور ان کو اپنی ضرورت سے آگاہ کیا جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ مالی وسائل کے ساتھ سائینسدانوں کو ایک بلڈنگ بھی فراہم کی جائے۔صدر ایوب نے اپنے وزیر خزانہ محمد شعیب کو فون کیا اور ان سے اس تجویز کے بارہ میں مشورہ مانگا۔اس پر وزیر خزانہ نے فرمایا: جناب پروفیسر دنیا بھر کی سائینسی کمیونٹی کیلئے ایک بین الاقوامی ہوٹل قائم کرنا مانگتے ہیں نہ کہ پاکستان میں کوئی نظری طبیعات کا مرکز۔صدر پاکستان نے اس مشورے پر ڈاکٹر عبد السلام سے معذرت کر لی۔بعد میں یہ سینٹر اٹلی میں قائم ہو گیا۔اور آج چالیس سال بعد دنیا اس سینٹر کی کامیابی پر انگشت بدنداں رہ گئی ہے۔تیسری دنیا میں سائینس کے فروغ میں اس سینٹر کا وہی کردار ہے جو پین کے شہر ٹولیڈ و Toledo کو یوروپ کی نشاۃ ثانیہ میں حاصل ہے۔یا اسلامی سائینس کے آغاز میں بغداد کو آٹھویں صدی میں حاصل تھا۔۔۔۔۔۔۔حمیدہ بشیر احمد صاحبہ ( ڈاکٹر صاحب کی ہمشیرہ) نے بیان کیا: ایک مرتبہ ڈاکٹر صاحب سنگا پور جانے کیلئے پاکستان سے گزر رہے تھے کہ ان کا سوٹ کیس جو وہ جہاز پر ساتھ لے کر چلے تھے، گم ہو گیا۔ائر لائین والوں کا فون آیا کہ آپ نئے کپڑے خرید لیں۔ہم آپ کو ان کی قیمت ادا کردیں گے۔ڈاکٹر صاحب نے کوئی غم و غصہ کا اظہار نہ کیا صرف اتنا کہا ان کو کپڑوں کی پڑی ہے مجھے ان ضروری کاغذات کی ، جن کی مجھے وہاں ضرورت ہوگی۔۴۳ بر اور اصغر، چوہدری عبد الرشید (لندن) نے بیان کیا: ڈاکٹر صاحب، حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب کی بہت عزت اور احترام کرتے تھے ، دونوں مختلف مسائل پر بعض دفعہ لمبی گفتگو کیا کرتے تھے۔دسمبر ۱۹۷۹ میں ڈاکٹر صاحب کے اعزاز میں