مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 302
(۳۰۲) دان ہیں اور ایسے لوگوں کے متعلق مشہور ہے کہ وہ غائب دماغ ہوتے ہیں۔کیا ڈاکٹر صاحب بھی ایسے ہیں؟ بیگم صاحبہ نے کہا کہ وہ اکثر خیالات میں مستغرق ہوتے ہیں اور یوں نظر آتا ہے کہ سوچتے سوچتے وہ کسی دوسری دنیا میں چلے گئے ہیں۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ کھانے کی میز پر ہیں اور اچانک نوالہ ہاتھ سے رکھ کر لکھنے پڑہنے کی میز پر چلے جاتے ہیں۔اور پھر گھنٹوں مصروف رہتے ہیں۔دراصل وہ ہر وقت سوچتے رہتے ہیں اور یہی ان کے کھوئے رہنے کا سبب ہے۔PA_ ڈاکٹر عبد السلام کا ایک پسندیدہ شعر اور ان کی بیان کردہ اسکی تشریح: کئی بار اسکی خاطر ذرے ذرے کا جگر چیرا مگر یہ چشم حیراں جس کی حیرانی نہیں جاتی (فیض) If there is one hallmark of true science, if there is one perception that scientific knowledge heightens, it is this spirit of 'tahayyar۔The deeper that one goes, the more profound one's insight, the more is one's sense of wonder increased۔کسی نے ڈاکٹر سلام سے سوال کیا 7 : ?What happened to Islamic Science انہوں نے جواب دیا Nothing, instead what we cultivated in Ishpahan and Cordoba is now being cultivated at MIT, Caltech, and at Imperial College, London۔It's just a geographical translations of place۔والدین کی خدمت: ڈاکٹر عبد السلام کو اپنے والدین کی ہر سہولت کا خیال ہمیشہ مد نظر ہو تھا تھا۔اس ضمن میں پاکستان کے نامور ادیب شیخ محمد اسماعیل پانی پتی نے درج ذیل واقعہ بیان کیا ہے۔ڈاکٹر صاحب کی تعیناتی امپرئیل کالج میں جب پروفیسر کے ہوگئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے والدین کولندن بلوا لیں۔اس ضمن میں انہوں نے ایک گھر پتنی کے علاقہ میں خرید لیا حالانکہ یہ