مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 296 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 296

(۲۹۲) ایک امیریکن سائنسدان جو نظریاتی طبیعات میں میرا شاگرد تھا یعنی والٹر گلبرٹ Gilbert جس کے ساتھ مل کر میں نے ڈسپرشن dispersion پر ایک مضمون بھی لکھا تھا وہ جینیٹک کوڈ کے امریکن دریافت کنندہ جے ڈی واٹسن کا (کیونڈش لیبارٹری) میں ہمسایہ تھا۔جب گلبرٹ ۱۹۵۶ء میں اپنی پی ایچ ڈی کمل کرنے کے بعد ہم سے رخصت ہوا تو وہ ہارورڈ یو نیورسٹی واپس چلا گیا۔اسکے بعد میری اپنے عزیز طالب علم گلبرٹ سے ملاقات ۱۹۶۱ء میں ہوئی جب میں امریکہ گیا ہوا تھا۔یہ فرض کرتے ہوئے کہ وہ ابھی تک نظریاتی طبیعات پر کام کر رہا ہے میں نے اس سے پوچھا کہ اب کیا ارادے ہیں۔وہ کچھ لیا گیا اور کہا میں شاید تمہارے لئے شرمندگی کا باعث ہوں۔میر اوقت آجکل جراثیموں کی افزائش پر گزرتا ہے۔واٹسن نے گلبرٹ کو جینے ٹکس کی طرف مائل کر لیا تھا۔گلبرٹ نے جلد ہی نیو کلک ایسڈ میں سی کیوئینگ sequencing کرنیکی ایک شاندار تیکنیک ایجاد کر لی۔اور اسے ۱۹۸۰ میں کیمسٹری کا نوبل پرائز دیا گیا۔۱۴ ۱۹۵۱ء میں مجھے بلایا گیا کہ میں انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانس سٹڈیز ، پرنسٹن (امریکہ) آکر ایک لیکچر دوں اس وقت تک میں اپنے نظرے کا اطلاق افزودہ سپین زیرو میسان کے فوٹان کے ساتھ باہمی رو عمل پر ری نار مالائزیشن تیکنیک پر کر چکا تھا۔میں اپنے نئے مضمون کی نقل لیکر رابرٹ اوپن ہائیمر کے پاس گیا۔اس خیال سے کہ شاید وہ اس کو صاد کر دے۔اور میں اسے اشاعت کیلئے فزکس ریویو رسالہ میں بھیجوا دوں۔تب مجھے خیال آیا کہ مضمون کی نقل جو میں نے اوپن ہا ئیمر کو بھجوائی ہے۔اس کے ساتھ ڈایا گرام لگانا تو میں بھول گیا ہوں۔چنانچہ میں اس مسودہ کو واپس لینے کیلئے اس کے دفتر گیا۔مجھے وہاں کچھ دیر انتظار کرنا پڑا۔کیونکہ اس کو ملنے کیلئے لوگ آئے ہوتے تھے۔پھر وہ اپنے دفتر سے باہر آیا اور مجھے دیکھ کر کہا: میں نے تمہارا مسودہ بہت مزے لیکر پڑھا ہے۔یہ بہت اچھا مضمون ہے مجھے اس پر خموش ہو جانا چاہئے تھا مگر میں ایک احمق کی طرح بولا: میرا خیال ہے کہ آپ اس کو سمجھ نہیں سکے