مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 290 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 290

(۲۹۰) separate Dr۔Salam's fascinating personality from his magnificent researches, this division could not successfully maintained۔The publisher "committed to promoting science among Urdu speaking migrants" has in a separate letter expressed his desire to publish extra copies of his publication and sought assistance from interested persons in this venture۔XYZ ڈاکٹر سلام کیلئے میکس ویل پرائز نوائے وقت ۱۴ جون ۱۹۶۲ء صدر پاکستان کے چیف سائینٹفک ایڈوائیزر پروفیسر عبد السلام کو ان کے ملک کی طرف سے جو انتہائی شایان شان خطاب ستارہ پاکستان اور دوسرے اعزازات دئے گئے وہ تو گھر کی بات ہے۔حال ہی میں انسٹی ٹیوٹ آف فزکس اینڈ دی فزیکل سوسائٹی کی کونسل آف دی انسٹی ٹیوٹ نے میکس ویل سیٹل اینڈ پرائز دے کر ان کی خداداد ذہانت کے حضور ایک اور ہدیہ عقیدت پیش کیا ہے۔یہ پہلا انعام ہے جس کیلئے سلام صاحب کو منتخب کیا گیا ہے۔پروفیسر سلام کی مناسبت سے دنیائے سائینس میں پاکستان کا نام ہمیشہ تا بند دور ہیگا۔ہر دوسرے سال تھیو رتیکل فزکس میں دنیا کے کسی بھی سائینسدان کو یہ انعام ممتاز خدمات کے صلہ میں دیا جاتا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس وقت تک اس میدان میں نیوٹن، میکس ویل، ڈائر اک ، آئین سٹائین ، اور ہائزن برگ نے جو خدمات انجام دیں ہیں ان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔بلاشبہ انہیں فزکس کا پیغمبر کہا جا سکتا ہے۔پروفیسر سلام کے اس اعزاز پر علمی پریس میں ان کی خدمات جلیلہ کا اعتراف کیا گیا ہے۔صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اپنے ایک ذاتی خط میں پروفیسر سلام کو لکھا: مجھے یہ سن کر بے انتہا مسرت ہوئی ہے کہ کونسل آف دی انسٹی ٹیوٹ آف فریکس اینڈ فزیکل سوسائٹی لندن نے تھیوری آف ایلی میتری پارٹیکلز میں نمایاں خدمات انجام دینے کے سلسلہ میں آپ کو پہلا میکس ویل میڈل اینڈ پرائز دیا ہے۔آپ ہم سب کے ہنے سرمایہ فخر و مباہات ہیں۔لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر جنرل محمد یوسف نے پروفیسر سلام کو لکھا: یہ صرف آپ کا ہی نہیں بلکہ آپ کے ملک کا بھی اعزاز ہے۔اس شان امتیاز پر دل و جان سے آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔میں جس بات کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں اور میرے خیال میں جو سب نو جوانوں کیلئے قابل تقلید بات ہے وہ یہ ہے کہ پروفیسر سلام کی زندگی بے انتہا سادہ اور پاکیزہ ہے۔اور وہ ایک دین دار آدمی ہیں۔اتنی طویل مدت سے یوروپ میں رہتے ہوئے انہوں نے لہو و لعب کی طرف بھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔باقاعدہ پانچ وقت کی نماز اور بعض اوقات تہجد اس نوجوان کے روز مرہ مشاغل کا حصہ ہیں۔ادھر ادھر وقت ضائع کرنا ان کے نزدیک سب سے بڑا گناہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ کامیابی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ جو شخص جس کام میں دل چسپی رکھتا ہے۔۔۔۔اسے انتہائے کمال تک پہنچا